اقوام متحدہ: امارات کے جوہری پلانٹ پر حملے کے الزامات بے بنیاد ہیں، ایران کا دو ٹوک جواب

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیریس اور سلامتی کونسل کے صدر کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں 19 مئی 2026 کو سلامتی کونسل کے اجلاس کے دوران امریکی نمائندے کی جانب سے لگائے گئے الزامات کا سخت جواب دیا گیا ہے۔

اس خط میں ایرانی مندوب نے متحدہ عرب امارات کے باراکا جوہری پلانٹ پر مبینہ ڈرون حملے میں تہران کے ملوث ہونے کے امریکی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے اسے بغیر کسی ثبوت کے ایک بے بنیاد الزام قرار دیا ہے۔

ایرانی سفیر نے اپنے خط میں اس بات پر زور دیا کہ ایران خود امریکہ اور صیہونی حکومت کی جانب سے اپنی پرامن جوہری تنصیبات پر ہونے والی جارحیت کا شکار رہا ہے۔ جون 2025 اور فروری 2026 میں غیر قانونی اور وحشیانہ جنگوں کے دوران ایران کے نطنز، فردو، اصفہان اور بوشہر کے جوہری مراکز کو نشانہ بنایا گیا، جو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

امیر سعید ایروانی نے مزید کہا کہ خطے میں اصل بحران اور بے چینی کا منبع امریکہ اور صیہونی حکومت کی تخریبی سرگرمیاں ہیں۔ واشنگٹن ایک طرف ایران پر الزامات لگا رہا ہے جبکہ دوسری طرف خود جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے کی دھجیاں اڑا رہا ہے۔ ایران نے ہمیشہ NPT کے تحت اپنی ذمہ داریوں کو پورا کیا ہے اور عالمی ایجنسی کے معائنہ کاروں کے لیے اپنے دروازے کھول رکھے ہیں۔

خط کے اختتام میں ایرانی مندوب نے واضح کیا کہ جس ملک نے یکطرفہ طور پر جوہری معاہدے سے نکل کر سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی کی ہو، اس کے وعدوں پر اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ سلامتی کونسل ایسے گمراہ کن سیاسی بیانیوں کو مسترد کرے جو درحقیقت خطے میں اصل مجرموں اور جارحین کو بچانے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔ جنگی جرائم کے مرتکب افراد کو عالمی عدالت کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *