آبنائے ہرمز پر برکس اعلامیہ امارات کی مخالفت کے باعث مؤخر

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں بریکس وزرائے خارجہ کا دو روزہ اجلاس ایسے وقت میں جاری ہے جب رکن ممالک عالمی یکطرفہ پالیسیوں، اقتصادی تعاون اور عالمی نظام میں اصلاحات جیسے اہم موضوعات پر تبادلہ خیال کر رہے ہیں۔

اجلاس کے دوران روس نے آبنائے ہرمز کی صورتحال پر ایک مشترکہ اعلامیہ تیار کرنے کی تجویز پیش کی، تاہم عرب امارات نے اس متن کو حتمی شکل دینے کی مخالفت کی، جس کے باعث اتفاق رائے نہ ہو سکا۔

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے بھی ایک ٹی وی انٹرویو میں اس بات کی تصدیق کی کہ روس نے بریکس اعلامیے کا مسودہ پیش کیا تھا، لیکن ایران اور امارات کے درمیان اختلافات اس کی راہ میں رکاوٹ بن گئے۔

اجلاس میں یکطرفہ پابندیوں کے مقابلے، کثیرالجہتی نظام کے فروغ، عالمی حکمرانی کے ڈھانچے میں اصلاحات، ڈالر پر انحصار کم کرنے اور مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھانے جیسے موضوعات بھی زیر بحث ہیں۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے اجلاس کے موقع پر کہا کہ برکس ایک اہم اقتصادی قوت بن چکا ہے اور رکن ممالک کے درمیان مالی تعاون اور مقامی کرنسیوں کے استعمال پر سنجیدہ گفتگو جاری ہے۔

انہوں نے بعض رکن ممالک کے رویے پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایک بریکس ملک نے ایران کے خلاف فوجی جارحیت کے دوران مناسب رویہ اختیار نہیں کیا اور اپنی سرزمین حملہ آوروں کے لیے استعمال ہونے دی۔

اس کے باوجود برکس ممالک نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ تنظیم کے اندر اقتصادی اور مالی تعاون کو مزید مضبوط بنایا جائے گا اور عالمی معاملات میں اس اتحاد کے کردار کو بڑھایا جائے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *