غزہ پر صہیونی فوج کا حملہ؛ حماس کے رہنما کا بیٹا بھی زخمیوں میں شامل

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج نے غزہ کے علاقے الدراج کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد افراد شدید زخمی ہوئے۔ زخمیوں میں غزہ میں حماس کے سربراہ خلیل الحیہ کے بیٹے عزام الحیہ کا نام بھی شامل ہے۔

غزہ کی وزارت صحت نے بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 4 شہدا اور 16 زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا گیا۔ وزارت کے مطابق 3 افراد حالیہ اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے جبکہ ایک شہید کی لاش ملبے سے نکالی گئی۔

وزارتِ صحت نے کہا کہ اب بھی کئی متاثرین ملبے تلے یا سڑکوں پر موجود ہیں، لیکن زمینی صورتحال کے باعث امدادی ٹیمیں ان تک نہیں پہنچ پارہیں۔

بیان کے مطابق 11 اکتوبر کو جنگ بندی کے اعلان کے بعد سے اب تک غزہ میں 837 افراد شہید اور 2381 زخمی ہوچکے ہیں، جبکہ 769 لاشیں ملبے سے نکالی جاچکی ہیں۔ وزارت نے مزید بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ میں غزہ کے مجموعی شہدا کی تعداد 72 ہزار 619 اور زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 72 ہزار 484 تک پہنچ چکی ہے۔

دوسری جانب حماس رہنماؤں نے خلیل الحیہ کے بیٹے کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی اخلاقی گراوٹ اور مزاحمت سے انتقام لینے کی ناکام کوشش قرار دیا۔

حماس رہنما طاہر النونو نے کہا کہ اسرائیلی بمباری اور قتل عام فلسطینی مزاحمت کے مؤقف کو مزید مضبوط کرے گا۔

تنظیم کے ترجمان حازم قاسم نے بھی کہا کہ خلیل الحیہ پہلے ہی اپنے کئی بیٹوں، پوتوں اور بھائیوں کو فلسطین کی راہ میں قربان کرچکے ہیں، لیکن اس کے باوجود وہ اپنے مؤقف پر ثابت قدم ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *