لاٹری کنگ کا جواب نہیں! ایک ہی فیملی کے 3 لوگ بنے اراکین اسمبلی، الگ الگ پارٹیوں سے لڑا تھا انتخاب

2024 میں لوک سبھا انتخابات سے قبل اپوزیشن پارٹیوں نے الیکٹورل بانڈ کا معاملہ اٹھایا تھا، جس پر کافی ہنگامہ ہوا۔ اس میں ایک کمپنی نے پورے ملک میں سب سے زیادہ چندہ دیا تھا، وہ سینٹیاگو مارٹن کی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>سیٹیاگو مارٹن کی فیملی، تصویر سوشل میڈیا</p></div><div class="paragraphs"><p>سیٹیاگو مارٹن کی فیملی، تصویر سوشل میڈیا</p></div>

i

user

google_preferred_badge

سیاست کا مقصد عموماً اقتدار حاصل کرنا ہی ہوتا ہے۔ ہندوستان میں کئی سیاسی خاندان ہیں، جہاں نسل در نسل پارلیمنٹ اور ریاستی اسمبلی ان کا مرکز رہی ہیں۔ ان سیاسی خاندانوں کا تعلق عام طور پر ایک ہی پارٹی سے ہوتا ہے، لیکن تمل ناڈو اور پڈوچیری اسمبلی انتخابات 2026 میں دلچسپ معاملہ دیکھنے کو ملا ہے۔ یہاں ایک ہی خاندان کے 3 افراد نے مختلف سیاسی پارٹیوں سے جیت حاصل کر سب کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ یہ خاندان ’لاٹری کنگ سینٹیاگو مارٹن‘ کا ہے۔ ان کے خاندان کے 3 افراد نے الگ الگ پارٹیوں سے انتخاب لڑ کر کامیابی حاصل کی ہے۔

گھر میں پہلی رکن اسمبلی مارٹن کی اہلیہ بنیں

مارٹن خاندان میں پہلی فتح سینٹیاگو مارٹن کی اہلیہ لیما روز مارٹن نے حاصل کی۔ انہوں نے لال گڑی سیٹ سے اے آئی اے ڈی ایم کے کی ٹکٹ پر انتخاب لڑا۔ انہوں نے ٹی وی کے امیدوار کوپا کرشنن کو تقریباً 2,700 ووٹوں سے شکست دی۔ یہ سیٹ طویل عرصہ سے ڈی ایم کے کا قلعہ سمجھی جاتی تھی، لیکن 2 دہائیوں بعد اے آئی اے ڈی ایم کے نے یہاں کامیابی حاصل کی۔ ڈی ایم کے امیدوار ٹی پریولّال بھی مقابلے میں پیچھے رہ گئے۔ لیما روز مارٹن پہلے انڈیا جن نائیکا کچی پارٹی میں تھیں، لیکن انتخاب سے پہلے 14 سال بعد پارٹی بدل کر اے آئی اے ڈی ایم کے میں شامل ہوئیں۔ اب انہیں خواتین وِنگ کی جوائنٹ سکریٹری بھی بنایا گیا ہے۔

داماد ’ٹی وی کے‘ سے بنے رکن اسمبلی

سینٹیاگو کے خاندان میں دوسری جیت آدھو ارجن ریڈی کی ہوئی ہے۔ وہ سینٹیاگو مارٹن کی بیٹی ڈیزی مارٹن کے شوہر ہیں۔ سینٹیاگو کے داماد ارجن نے ولی وکم اسمبلی سیٹ سے انتخاب لڑا۔ انہوں نے ڈی ایم کے لیڈر کارتک موہن کو 17,302 ووٹوں سے ہرا کر کامیابی حاصل کی۔ یہ سیٹ پچھلے 2 انتخابات میں ڈی ایم کے کے پاس تھی۔ ارجن اداکار-سیاست داں وجئے کی پارٹی ’تملگا ویتری کژگم‘ (ٹی وی کے) کے قابلِ اعتماد لیڈران میں شمار ہوتے ہیں۔ انہوں نے پارٹی کی انتخابی مہم میں جنرل سکریٹری کی ذمہ داری بھی نبھائی۔

پڈوچیری میں مارٹن کے بیٹے نے جیت حاصل کی

مارٹن خاندان کے تیسرے رکن جو رکن اسمبلی بنے، وہ ان کے بیٹے جوس چارلس مارٹن ہیں۔ انہوں نے پڈوچیری میں اپنی پارٹی ’لتچیا جننایک کچی‘ کی ٹکٹ پر کامراج نگر سیٹ سے انتخاب لڑا اور 10 ہزار سے زائد ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے کانگریس لیڈر پی کے دیوداس اور ٹی وی کے لیڈر سمن کو شکست دی۔

ایک انٹرویو میں جوس چارلس مارٹن نے بتایا تھا کہ وہ پہلے بی جے پی سے وابستہ تھے، لیکن سیٹوں کی تقسیم میں تاخیر کے باعث انہوں نے پارٹی چھوڑ دی۔ انہوں نے فروری 2026 میں اپنی نئی پارٹی بنائی اور کامیابی بھی حاصل کی۔ پیشے کے اعتبار سے بزنس مین جوس نے وزیر اعظم نریندر مودی کے وژن اور ’میک اِن انڈیا‘ پروگرام کی تعریف بھی کی۔

کون ہیں سانٹیاگو مارٹن؟

سینٹیاگو مارٹن کی شناخت بہت منفرد ہے۔ اگر 2 سال پیچھے جائیں تو مارچ 2024 میں لوک سبھا انتخابات سے قبل اپوزیشن پارٹیوں نے الیکٹورل بانڈ کا معاملہ اٹھایا تھا، جس پر کافی ہنگامہ ہوا۔ اس میں ایک کمپنی نے پورے ملک میں سب سے زیادہ چندہ دیا تھا، اور وہ کمپنی سینٹیاگو مارٹن کی تھی۔ اگرچہ انہوں نے تقریباً تمام پارٹیوں کو چندہ دیا تھا۔

سینٹیاگو مارٹن نے 90-1980 کی دہائی میں لاٹری کے کاروبار سے آغاز کیا اور اپنی کمپنی ’فیوچر گیمنگ اینڈ ہوٹل سروسز‘ کو ملک کی بڑی لاٹری کمپنیوں میں شامل کر دیا۔ تاہم 2019 سے 2024 کے درمیان الیکٹورل بانڈ کے انکشافات کے بعد وہ تنازعات میں آ گئے۔ ان کی کمپنیوں پر منی لانڈرنگ اور مالی بے ضابطگیوں کے الزامات لگے، جن کی جانچ انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے کی۔ ان کی کمپنیوں پر کئی بار چھاپے مارے گئے اور کروڑوں کی جائیداد ضبط بھی کی گئی۔ فی الحال انہیں سپریم کورٹ سے راحت ملی ہوئی ہے۔ ان پر کئی ریاستوں میں لاٹری چلانے کے الزامات بھی ہیں، جہاں یہ کاروبار ممنوع ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *