
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب کے سیاسی امور کے سربراہ جنرل جوانی نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں متعین حدود کے اندر گزرنے والا ہر جہاز ایرانی مسلح افواج کی اجازت سے گزرے گا، جبکہ دشمن سے تعلق رکھنے والے کسی بھی بحری جہاز سے سختی سے نمٹا جائے گا۔
ایرانی سرکاری ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز کے نظم و نسق کو ایک عملی شکرگزاری کے طور پر دیکھتا ہے اور اس اہم آبی گزرگاہ کی منظم نگرانی و کنٹرول کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہا ہے۔ آبنائے ہرمز کا نیا انتظامی نظام عالمی اور بین الاقوامی سطح پر ایک نئے نظم کی بنیاد رکھے گا۔
سردار جوانی نے زور دیتے ہوئے کہا کہ جو بھی جہاز اس مخصوص اور خط کشی شدہ علاقے میں آمد و رفت کرنا چاہے گا، اسے ایرانی مسلح افواج کی اجازت کے ساتھ یہ کام انجام دینا ہوگا تاکہ اس کی سلامتی یقینی بنائی جاسکے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر کسی دشمن یا حریف ملک سے تعلق رکھنے والا بحری جہاز اس علاقے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اس کے ساتھ فیصلہ کن اور سخت رویہ اختیار کیا جائے گا۔
انہوں نے انتباہ کیا کہ امریکہ کی جانب سے ایران کے ساتھ کشیدگی بڑھانے کا نقصان خود امریکہ کے لیے کہیں زیادہ ہوگا۔ امریکہ اپنی طاقت آزمانے کے لیے ہر ممکن صلاحیت میدان میں لائے گا، لیکن انجام کار اسے شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال میں ڈونلڈ ٹرمپ کا سب سے بڑا مسئلہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھلوانا ہے اور وہ 40 روزہ جنگ کے دوران اور اس کے بعد ہر ممکن کوشش کرچکا، لیکن کوئی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔ ٹرمپ کسی صورت یہ صلاحیت نہیں رکھتا کہ حالات کو جنگ سے پہلے والی حالت میں واپس لے جاسکے یا زمینی حقائق کو تبدیل کرسکے۔
