
بہار سے بریلی میں عرس میں شرکت کے لئے آنے والے مولانا توصیف رضا مظہری کی ہلاکت نے سنگین رخ اختیار کر لیا ہے۔ ان کی اہلیہ تبسم نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کے شوہر کو ٹرین میں حملے کے بعد باہر پھینک دیا گیا، جسے انہوں نے مبینہ ہجومی تشدد کا واقعہ قرار دیا ہے۔
تبسم نے اس واقعہ پر اتر پردیش کے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ سے سوال کیا ہے کہ کیا داڑھی اور ٹوپی رکھنے والے افراد ریاست میں محفوظ زندگی گزار سکتے ہیں؟ وہ کشن گنج سے بریلی پہنچیں اور انہوں نے اس معاملہ میں قتل کا مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی۔
ریلوے پولیس کے انسپکٹر سشیل کمار ورما کے مطابق نامعلوم افراد کے خلاف مقدمہ درج کر لیا گیا ہے جبکہ ایس پی سٹی منوش پریک کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر مزید کارروائی کی جائے گی۔
اس واقعہ پر سیاسی اور مذہبی حلقوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا ہے۔ مجلس کے قائد ندیم قریشی نے الزام لگایا کہ ایک مخصوص شناخت رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ درگاہ اعلیٰ حضرت کے مفتی توصیف نورانی نے اس واقعے کو ایک سازش قرار دیتے ہوئے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
گھر والوں کے مطابق تبسم اور مرحوم کی شادی کو دو سال بھی مکمل نہیں ہوئے تھے اور وہ گھر کے واحد کفیل تھے۔ تبسم نے کہا کہ وہ انصاف ملنے تک اپنی جدوجہد جاری رکھیں گی۔
اہلیہ نے بتایا کہ 26 اپریل کو ان کے شوہر نے ٹرین سے فون کر کے اطلاع دی تھی کہ کچھ افراد ان پر تشدد کر رہے ہیں۔ ویڈیو کال کے دوران انہوں نے دیکھا کہ کچھ لوگ ان کا گریبان پکڑ کر انہیں تھپڑ مار رہے تھے اور چوری کا الزام لگا رہے تھے، جبکہ وہ مسلسل یہ کہہ رہے تھے کہ وہ مدرسے کے استاد ہیں اور صرف کتابیں و کپڑے ساتھ لے جا رہے ہیں۔
اگلی صبح بریلی ریلوے پولیس نے گھر والوں کو اطلاع دی کہ ان کی لاش ریلوے ٹریک پر ملی ہے۔ ابتدائی طور پر پولیس نے گرمی یا نیند کے باعث ٹرین سے گرنے کا امکان ظاہر کیا تھا، تاہم گھر والوں نے اس مؤقف کو سختی سے مسترد کر دیا ہے اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
