کیرالا میں مسلم ووٹوں کا جھکاؤ، مسلم لیگ 23 نشستوں پر آگے—سیاسی منظرنامہ بدلنے کے اشارے

ترواننتا پورم: کیرالا اسمبلی انتخابات کے  رجحانات میں کانگریس کی اتحادی جماعت انڈین یونین مسلم لیگ 23 نشستوں پر آگے چل رہی ہے، جس سے اپوزیشن اتحاد کے حق میں مسلم ووٹوں کے یکجا ہونے کے اشارے مل رہے ہیں۔ 140 رکنی اسمبلی میں مسلم لیگ نے اس بار 27 نشستوں پر مقابلہ کیا ہے۔

 

پارٹی کے سینئر لیڈر پی کے کنہالی کٹی مالاپورم حلقہ سے 16 ہزار سے زائد ووٹوں کی برتری کے ساتھ آگے ہیں۔ ان کے مقابلے میں سوشل ڈیموکریٹک پارٹی، بھارتیہ جنتا پارٹی اور آزاد امیدوار سمیت کئی امیدوار میدان میں ہیں۔

 

مسلم لیگ، کانگریس کی قیادت والے اتحاد کا اہم حصہ ہے اور ریاست میں مسلسل بہتر کارکردگی دکھاتی رہی ہے۔ قومی سطح پر بھی یہ جماعت انڈیا اتحاد میں شامل ہے۔ پارٹی قیادت کے مطابق کیرالا میں اس کا اصل مقابلہ بائیں بازو کے اتحاد سے ہے جبکہ قومی سطح پر قومی جمہوری اتحاد اس کی حریف ہے۔

 

پارٹی نے اس بار وزارت یا ڈپٹی چیف منسٹر کے عہدے کے لئے کوئی اضافی مطالبہ نہیں کیا۔ مسلم لیگ محدود نشستوں پر الیکشن لڑتی ہے مگر اس کی کامیابی کی شرح زیادہ رہتی ہے، جس کی وجہ سے وہ ایک اہم اتحادی سمجھی جاتی ہے۔ 2021 کے انتخابات میں پارٹی نے 25 نشستوں پر مقابلہ کر کے 15 نشستیں جیتی تھیں اور مجموعی طور پر 8.27 فیصد ووٹ حاصل کیے تھے۔

 

اس بار پارٹی نے زیادہ تر وسطی اور شمالی کیرالا کی ان نشستوں پر امیدوار کھڑے کیے ہیں جہاں مسلم آبادی نمایاں ہے اور عام طور پر یہ ووٹرز اپوزیشن اتحاد کے حق میں متحد ہو کر ووٹ دیتے ہیں۔

 

پارٹی نے اپنی شبیہ بہتر بنانے کے لئے پہلی بار دو خواتین کو قومی قیادت میں شامل کیا ہے، جن میں جینتی راجن اور فاطمہ مظفر شامل ہیں۔

 

2011 کی مردم شماری کے مطابق کیرالا کی آبادی میں مسلمانوں کا تناسب 26.56 فیصد ہے۔ ماضی میں پارٹی نے خواتین امیدوار بھی میدان میں اتارے، تاہم انہیں کامیابی نہیں مل سکی۔

 

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *