تنہائی کی قید اور آنکھوں میں انفیکشن سے پریشان عمران خان نے طبی بنیادوں پر داخل کی رہائی کی عرضی

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نے کہا کہ جیل میں طویل عرصے تک تنہا رہنے اور آنکھوں کے انفیکشن کی وجہ سے ان کی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>عمران خان، تصویر آئی اے این ایس</p></div><div class="paragraphs"><p>عمران خان، تصویر آئی اے این ایس</p></div>

i

user

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان طویل عرصہ سے جیل میں قید ہیں۔ ضمانت سے متعلق ان کی کئی عرضیاں خارج ہو چکی ہیں، اور اب انھوں نے اپنی بگڑتی ہوئی صحت اور جیل کے خراب حالات کا حوالہ دیتے ہوئے عدالت سے رہائی کی درخواست کی ہے۔ عمران کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ ان کی آنکھوں میں صرف 15 فیصد بینائی باقی رہ گئی ہے، جو فکر انگیز صورت حال ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے دوران عمران خان کے وکیل نے کہا کہ جیل میں طویل عرصے تک تنہا رہنے اور آنکھوں کے انفیکشن کی وجہ سے ان کی حالت مسلسل خراب ہوتی جا رہی ہے۔ ’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کے مطابق عمران خان کے وکیل سلمان صفدر نے عدالت سے کہا کہ ’’عمران خان کی آنکھوں کی روشنی کم ہو کر صرف 15 فیصد رہ گئی ہے، یعنی وہ اپنی 85 فیصد بینائی کھو چکے ہیں۔‘‘ انھوں نے عدالت میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ ان کی آنکھوں کی حالت اب مستقل ہو چکی ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق یہ ایسی صورتحال بن گئی ہے جسے اب ٹھیک نہیں کیا جا سکتا۔

عمران خان کے وکیل نے عدالت میں عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو رکھنے کے طریقے پر بھی سوال اٹھائے اور پوچھا کہ انہیں تنہائی کی قید (سولیٹری کنفائنمنٹ) میں کیوں رکھا جا رہا ہے؟ وکیل نے دعویٰ کیا کہ عمران کو کئی بار اسپتال لے جایا گیا کیونکہ اڈیالہ جیل میں مناسب علاج کی سہولیات موجود نہیں ہیں۔ انھوں نے عدالت سے اپیل کی کہ پنجاب جیل کے آئی جی، سپرنٹنڈنٹ اور ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ کو طلب کیا جائے، اور عمران خان کا مکمل میڈیکل ریکارڈ بھی پیش کیا جائے۔ سماعت کے دوران اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سرفراز ڈوگر نے وکیل سے کہا کہ وہ مرکزی اپیل پر توجہ دیں، تاہم وکیل نے زور دیا کہ پہلے سزا کو معطل کرنے کی درخواست پر فیصلہ ہونا چاہیے۔ فی الحال عدالت نے سماعت ملتوی کر دی ہے۔

واضح رہے کہ عمران خان اور ان کی اہلیہ 190 ملین پاؤنڈ کی بدعنوانی سے متعلق کیس (القادر ٹرسٹ کیس) میں جیل میں بند ہیں۔ دونوں پر الزام ہے کہ انھوں نے ایک رئیل اسٹیٹ ٹائیکون سے کروڑوں ڈالر مالیت کی زمین حاصل کی۔ قومی احتساب بیورو (این اے بی) کے مطابق برطانیہ سے واپس آنے والی رقم کو سرکاری خزانے میں جمع کرانے کے بجائے اس تاجر کے جرمانے کی ادائیگی میں استعمال کیا گیا، جس کے بدلے عمران خان کے ٹرسٹ کو عطیہ ملا۔ اسی کیس میں عدالت نے عمران خان کو 14 سال اور بشریٰ بی بی کو 7 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔




[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *