
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی میڈیا نے لبنان میں جاری جنگ کے دوران اسرائیلی فوج کی مسلسل ناکامیوں اور مشکلات کا اعتراف کیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اس جنگ کے ساتھ ساتھ اسرائیلی فوج کے اندر بھی تشویشناک رجحانات سامنے آ رہے ہیں، جن میں فوجیوں میں خودکشی کے بڑھتے ہوئے واقعات شامل ہیں۔
اسرائیلی اخبار ہاآرتص کے مطابق گزشتہ ایک ماہ کے دوران 8 فوجیوں اور پولیس اہلکاروں سمیت 3 ریزرو اہلکاروں نے خودکشی کی۔
دوسری جانب اخبار “اسرائیل ہیوم” نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ موجودہ حملے حزب اللہ کے خلاف مؤثر ثابت نہیں ہو رہے، کیونکہ مزاحمتی قوتوں نے پہلے سے زیادہ مضبوط عزم اور استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ حزب اللہ اس بات سے آگاہ ہے کہ تل ابیب دباؤ کا شکار ہے اور وہ اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔
اخبار “معاریو” نے بھی لکھا ہے کہ حزب اللہ کے جنگجو جنوبی لبنان میں بدستور موجود ہیں اور گوریلا جنگی حکمت عملی کے تحت کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جس سے اسرائیلی فوج کو مسلسل مشکلات کا سامنا ہے۔
رپورٹ کے مطابق موجودہ حالات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اسرائیلی فوج لبنان میں دلدل میں پھنستی جا رہی ہے اور اس کے لیے اس جنگ سے نکلنا آسان نہیں رہا۔
اسی حوالے سے “اسرائیل ہیوم” نے مزید لکھا کہ اسرائیل اپنے اعلان کردہ اہداف، خاص طور پر حزب اللہ کو ختم کرنے میں ناکام رہا ہے اور شمالی علاقوں میں سکیورٹی کی صورتحال بھی ابتر ہے۔
اخبار کے مطابق جنگ سے پہلے اسرائیل لبنان میں اپنی مرضی سے کارروائیاں کرتا تھا، تاہم اب حالات بدل چکے ہیں اور صورتحال اس کے لیے مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ادھر “یدیعوت آحارونوت” نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ غزہ، لبنان اور ایران میں مخالف قوتوں کو ختم کرنے کا تصور اسرائیل اور امریکہ کی پالیسی ساز قیادت کی غلط حکمت عملی اور ماضی کی ناکامیوں سے سبق نہ سیکھنے کی علامت ہے۔
