کانپور میں اتوار کی صبح ایک دل دہلا دینے والا واقعہ پیش آیا، جہاں 45 سالہ والد نے اپنی 11 سالہ جڑواں بیٹیوں کو قتل کر دیا۔ ملزم نے مبینہ طور پر دونوں بیٹیوں کا گلا کاٹ کر انہیں قتل کیا اور اس کے بعد لاشوں کے پاس بیٹھا رہا۔
قتل کے بعد ملزم نے خود ہی پولیس کو فون کیا اور اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ اس نے اپنی بیٹیوں کو مار دیا ہے اور پولیس کو فوری آنے کی درخواست کی۔ اطلاع ملتے ہی پولیس جب موقع پر پہنچی تو گھر کا دروازہ بند تھا۔ دروازہ کھولنے پر اہلخانہ میں کہرام مچ گیا۔
پولیس کی موجودگی کا علم ہوتے ہی ملزم کی اہلیہ موقع پر پہنچی اور جب اسے واقعے کی اطلاع ملی تو وہ شدید صدمے میں گھر کے اندر دوڑتی ہوئی گئیں، جہاں اپنی دونوں بیٹیوں کی خون میں لت پت لاشیں دیکھ کر وہ زار و قطار رونے لگیں۔ ملزم ششی رنجن مشرا لاشوں کے قریب ہی بیٹھا ہوا تھا، جسے پولیس نے موقع سے گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق ملزم ایک دوا ساز کمپنی میں میڈیکل ریپریزنٹیٹو کے طور پر کام کرتا ہے اور اپنے خاندان کے ساتھ نوابستہ کے کیڈوائی نگر علاقے میں ایک اپارٹمنٹ میں رہائش پذیر تھا۔ خاندان میں اہلیہ ریشما چھیتری، تین بچے—جڑواں بیٹیاں رِدھی اور سِدھی اور چھ سال کا بیٹا شامل ہیں۔
اہلیہ کے مطابق شادی کے ابتدائی سالوں میں تعلقات معمول کے تھے تاہم بعد میں شوہر کے رویے میں تبدیلی آ گئی اور وہ اکثر نشے میں مار پیٹ کرتا تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ شوہر گھر میں سی سی ٹی وی کیمرے لگاکر ہر وقت نگرانی کرتا تھا اور انہیں کمرے میں جانے تک کی اجازت نہیں تھی۔
پولیس کی ابتدائی تفتیش میں انکشاف ہوا ہے کہ ملزم کو اپنی اہلیہ کے کردار پر شک تھا اور وہ اس پر مسلسل نظر رکھتا تھا۔ تاہم دو معصوم بچیوں کے قتل کی اصل وجہ تاحال واضح نہیں ہو سکی۔
اہلیہ نے روتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ان کے شوہر کو فوری طور پر سخت سزا دی جائے۔ پولیس نے واقعے کی مختلف زاویوں سے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور نفسیاتی پہلوؤں کو بھی زیر غور لایا جا رہا ہے۔

ملزم کی اہلیہ ریشما کے انکشافات نے کیس کو مزید سنگین اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ریشما نے اپنے شوہر پر کئی سنسنی خیز الزامات عائد کرتے ہوئے گھر کے اندر کی صورتحال کو تفصیل سے بیان کیا ہے۔
اہلیہ کے مطابق ان کی شادی 2014 میں لو میرج کے طور پر ہوئی تھی۔ وہ مغربی بنگال کے سلی گوڑی کی رہنے والی ہیں جبکہ ان کے شوہر بہار سے تعلق رکھتے ہیں۔ کانپور میں ملازمت کے دوران دونوں کی ملاقات ہوئی تھی، تاہم شادی کے چند ہی سال بعد رشتے میں کشیدگی پیدا ہونے لگی۔
ریشما نے الزام لگایا کہ ان کا شوہر اکثر شراب کے نشے میں مارپیٹ کرتا تھا اور انہیں میکے جانے سے بھی روکتا تھا۔ ان کے مطابق شوہر بار بار کہتا تھا کہ وہ بیٹے کو ساتھ لے جائیں، جبکہ دونوں بیٹیوں کو وہ اپنے پاس رکھے گا۔
اہلیہ نے یہ بھی بتایا کہ گھر کے اندر متعدد سی سی ٹی وی کیمرے نصب تھے، خاص طور پر شوہر کے کمرے میں سخت نگرانی کا نظام تھا، جہاں کسی کو داخل ہونے کی اجازت نہیں تھی۔ ریشما کے مطابق وہ خود بھی اس کمرے میں داخل نہیں ہو سکتی تھیں اور صرف باہر لگے اسکرین سے نگرانی کرتی تھیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ایک موقع پر وہ بیٹے کو لے کر میکے چلی گئی تھیں، تاہم بیٹیوں کو ساتھ لے جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ بعد میں وہ تقریباً 9 ماہ بعد واپس آئیں کیونکہ بیٹیوں سے دوری برداشت کرنا مشکل تھا۔
اہلیہ کے مطابق شوہر اکثر کہتا تھا کہ وہ زندگی ختم کرنا چاہتا ہے اور دونوں بیٹیوں کو بھی اپنے ساتھ لے جائے گا۔
واقعے کی رات کے بارے میں ریشما نے بتایا کہ سب کچھ معمول کے مطابق تھا۔ خاندان نے ساتھ کھانا کھایا، جس کے بعد شوہر بیٹیوں کو لے کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ وہ کافی دیر تک فون پر بات کرتا رہا، جسے ریشما سی سی ٹی وی کے ذریعے دیکھ رہی تھیں۔
رات تقریباً 2:30 بجے وہ ایک بیٹی کو باتھ روم لے کر گیا اور کچھ دیر بعد واپس آکر کمرے کی لائٹ بند کر دی۔ اس کے بعد گھر میں مکمل خاموشی چھا گئی اور کسی کو اندازہ نہیں ہو سکا کہ اندر کیا خوفناک واقعہ پیش آنے والا ہے۔
پولیس کے مطابق واقعے کی مختلف زاویوں سے تفتیش جاری ہے اور اصل محرکات جاننے کی کوشش کی جا رہی ہے۔


