حوثیوں کی نئی دھمکی — باب المندب بند کرنے کا انتباہ، عالمی تجارت اور تیل سپلائی خطرے میں

مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کے درمیان عالمی توانائی بحران کے خدشات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ جاری تنازع کے پس منظر میں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی بندش کے بعد کئی ممالک میں تیل اور گیس کی قلت پیدا ہو چکی ہے۔ اب یمن میں سرگرم  حوثیوں نے ایک اور اہم سمندری گزرگاہ باب المندب آبنائے کو بند کرنے کی دھمکی دے دی ہے، جو نہر سویز کی طرف جانے والے بحری راستے کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہے۔

 

حوثی حکام نے خبردار کیا ہے کہ اگر ڈونلڈ ٹرمپ عالمی امن کو متاثر کرنے والی پالیسیاں جاری رکھتے ہیں تو وہ اس آبنائے کو مکمل طور پر بند کر دیں گے، جس کے بعد اسے دوبارہ کھولنا کسی کے لیے ممکن نہیں ہوگا۔ حوثی وزارتِ خارجہ کے نائب وزیر حسین کے مطابق امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو فوری طور پر اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے، ورنہ خطے میں مزید تباہی کا خطرہ ہے۔

 

دوسری جانب لبنان کی تنظیم حزب اللہ کے سیکریٹری جنرل نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ ہونے والی یکطرفہ جنگ بندی کو لبنان کے لیے توہین آمیز قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کی تنظیم اس معاہدے کی پابند نہیں ہے۔ انہوں نے یاد دلایا کہ ماضی میں بھی جنگ بندی کے دوران شہریوں پر حملے کیے گئے تھے۔

 

ماہرین کے مطابق باب المندب آبنائے عالمی تجارت کے لیے انتہائی اہم راستہ ہے، جو بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے جوڑتی ہے اور ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کے درمیان بحری نقل و حمل کا بڑا ذریعہ ہے۔ اندازوں کے مطابق روزانہ تقریباً 45 لاکھ بیرل تیل اس راستے سے گزرتا ہے،

 

جبکہ عالمی تجارت کا 10 سے 12 فیصد حصہ اسی گزرگاہ کے ذریعے منتقل ہوتا ہے۔ اس کی ممکنہ بندش سے نہ صرف توانائی کی سپلائی متاثر ہو سکتی ہے بلکہ عالمی معیشت پر بھی گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *