امریکی سائنسدانوں کی مشکوک گمشدگی اور اموات، ٹرمپ نے اعتراف کرلیا

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، امریکی میڈیا نے حالیہ برسوں میں امریکی ایٹمی اور خلائی پروگراموں سے متعلق چند سائنسدانوں اور سرکاری اہلکاروں کی مشکوک گمشدگیوں اور اموات پر رپورٹ شائع کی۔

تفصیلات کے مطابق فوکس نیوز کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ وائٹ ہاؤس ان اعلی اہلکاروں کی گمشدگی اور مشکوک اموات کی تحقیقات کر رہا ہے۔ جولائی 2023 سے کم از کم 10 سائنسدان اور سرکاری اہلکار، جو حساس حکومتی پروگراموں سے وابستہ تھے، پراسرار حالات میں لاپتہ یا ہلاک ہوئے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس معاملے پر اجلاس میں شریک ہوئے اور امید کرتے ہیں کہ یہ واقعات محض اتفاقی ہیں۔

ٹرمپ نے مزید کہا کہ بعض گمشدہ افراد انتہائی اہم تھے، اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ حکومت اس معاملے کو سنجیدگی سے دیکھ رہی ہے۔

فوکس نیوز کے مطابق، گمشدگی اور ہلاک ہونے والے افراد میں شامل ہیں:

کرنل ریٹائرڈ نیل مک کسلینڈ، جو 27 فروری کو لاپتہ ہوئے، اور ان کے فون اور عینک گھر میں ملے جبکہ جوتے، بٹوہ اور اسلحہ غائب تھا۔

مونیکا رضا، ایرو اسپیس انجینئر، جون 2025 میں لاس اینجلس نیشنل فورسٹ میں گم ہوئیں۔

اسٹیون گارسیا، سرکاری ٹھیکیدار، اگست 2025 میں گھر سے نکلنے کے بعد لاپتہ ہوئے۔

کارل گریلمیر، فلکیات کے ماہر، پچھلے سال فروری میں گھر کے باہر فائرنگ سے ہلاک ہوئے۔

نونو لوریرو، ماہر فزکس، گھر میں فائرنگ سے مارے گئے۔

فرانک میوالڈ، ناسا کے جیٹ پروپلسن لیب انجینئر، جولائی 2024 میں ہلاک ہوئے، موت کی وجہ سامنے نہیں آئی۔

ملیسا کاسیاس، لوس آلاموس نیشنل لیب کی ایڈمنسٹریٹر، جون 2025 میں لاپتہ ہوئیں۔

اینتھونی چاوز، ریٹائرڈ ملازم لوس آلاموس، مئی 2025 میں آخری بار گھر میں دیکھے گئے۔

جیسن تھامس، نووارٹیس کمپنی کے ڈائریکٹر، لاپتہ ہونے کے تین ماہ بعد جھیل میں مردہ پائے گئے۔

ان مشکوک واقعات کی وجہ سے امریکی سکیورٹی اور سائنس کے حساس شعبوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *