
نئی دہلی: ایک ماہ سے زائد عرصے سے جاری ایران جنگ کے باعث امریکی فوجی دباؤ کا شکار ہو رہے ہیں۔ مغربی ایشیا میں تعیناتیوں کے حوالے سے وہ تشویش میں مبتلا ہیں۔
ان خدشات سے نکلنے اور ذہنی سکون حاصل کرنے کے لیے وہ بڑی مقدار میں پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔ اس حوالے سے ایک سوشل میڈیا انفلوئنسر کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔
انفلوئنسر کے مطابق “ہماری کلب جو فوجی اڈوں کے قریب واقع ہے وہاں بڑی تعداد میں فوجی آ رہے ہیں۔ وہ سب دباؤ میں دکھائی دیتے ہیں اور خود کو پرسکون کرنے کے لیے کافی پیسہ خرچ کر رہے ہیں۔
وہ بتاتے ہیں کہ ہم اگلے ہفتے روانہ ہو رہے ہیں اور جنگ کے بارے میں بات کرتے ہیں۔ ان میں سے بہت سے فوجی کم عمر ہیں جنہیں دیکھ کر کافی جذباتی محسوس ہوتا ہے۔”
یہ ویڈیو ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب مغربی ایشیا میں امریکہ اپنی فوجی تعیناتیاں بڑھا رہا ہے۔ انفلوئنسر کے دعووں کی بنیاد پر یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کیا اس تنازع کے لیے بڑی تعداد میں
فوجیوں کو بھیجا جا رہا ہے؟تاہم سابق فوجی حکام نے اس طرح کی معلومات کے عام ہونے پر اعتراض کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ کلبوں میں ہونے والی غیر ضروری گفتگو دشمنوں تک اہم معلومات پہنچا سکتی ہے
جو سیکیورٹی کے لیے خطرہ بن سکتی ہے۔
