
اترپردیش کے ضلع غازی آباد کے لونی علاقے میں ایک سال قبل ہونے والی بین مذہبی محبت کی شادی ایک خونی سانحہ میں بدل گئی، جہاں 32سالہ نوجوان نتن راتھی کو مبینہ طور پر سسرالی رشتہ داروں نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے دو ملزمین کو گرفتار کر لیا ہے جبکہ دیگر کی تلاش جاری ہے۔
ایف آئی آر کے مطابق مقتول کے بھائی امیت کمار راتھی نے بتایا کہ نتن راتھی جو ایک خانگی کالج کا لکچرر بتایا گیا. نے ایک سال قبل مسکان نامی لڑکی سے آریہ سماج مندر میں محبت کی شادی کی تھی، جس پر لڑکی کے گھر والے شروع سے ناراض تھے اور دونوں خاندانوں کے درمیان کشیدگی جاری تھی۔ حالیہ دنوں میں میاں بیوی کے درمیان جھگڑے کے بعد بیوی اپنے میکے چلی گئی تھی۔
30 مارچ کی شام صلح کے بہانے نتن راتھی کو بلایا گیا،نتن راتھی اپنے بھائی امیت کے ساتھ اپنے سسرال جارہا تھا جہاں مبینہ طور پر اسے گاڑی میں لے جا کر راستے میں گھیر لیا گیا۔ شکایت کے مطابق مسکان کے والد مہرالدین، چچا آصف علی اور دیگر افراد نے نتن کو پکڑ کر بری طرح مارا پیٹا اور گلا دبا کر قتل کر دیا، جبکہ اس کا بھائی کسی طرح جان بچا کر فرار ہو گیا۔
پولیس کے مطابق بھنیڑا پل کے قریب ایک نوجوان کے بے ہوش ہونے کی اطلاع پر اسے جی ٹی بی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں ڈاکٹروں نے اسے مردہ قرار دے دیا۔ جو نتن راتھی تھا
واقعہ کے بعد مشتعل گھر والوں نے بانتھلا فلائی اوور کے قریب سڑک پر نعش رکھ کر احتجاج کیا اور ٹریفک جام کر دیا۔ پولیس نے موقع پر پہنچ کر مظاہرین کو سمجھا بجھا کر راستہ کھلوایا اور سخت کارروائی کا یقین دلایا۔
حکام کے مطابق مقدمہ میں دو نامزد ملزمین کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ دیگر ملزمین کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارے جا رہے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ کیس کی سنجیدگی سے تحقیقات جاری ہیں۔
