
تلنگانہ اسمبلی نے “ملازمین کی جانب سے والدین کی دیکھ بھال” سے متعلق بل کو منظوری دے دی۔ بل کی منظوری سے قبل خطاب کرتے ہوئے چیف منسٹر ریونت ریڈی نے کہا کہ والدین اپنی زندگی بچوں کے لیے وقف کرتے ہیں، مگر آج کے دور میں کئی بچے خودمختار ہونے کے بعد انہیں نظر انداز کر دیتے ہیں،
اسی لیے بزرگوں کے تحفظ کے لیے یہ قانون لایا گیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ 2007 کا مرکزی قانون موجود ہے، لیکن موجودہ حالات میں مزید سخت اقدامات کی ضرورت محسوس ہوئی۔ چیف منسٹر نے واضح کیا کہ والدین کی خدمت نہ کرنے والوں کے خلاف سماجی اور قانونی سطح پر کارروائی ضروری ہے۔اپنی تقریر میں انہوں نے شروَن کمار کی مثال دیتے ہوئے والدین کی خدمت کو اعلیٰ اقدار کا حصہ قرار دیا، جبکہ معروف صنعت کار وجے پتھ سنگھانیا کی زندگی کا حوالہ دیتے ہوئے جدید معاشرے میں والدین کی بے قدری کو اجاگر کیا
۔انہوں نے کہا کہ یہ بل ذمہ داری کے احساس کو بڑھانے اور بزرگ والدین کو تحفظ فراہم کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے، تاکہ کوئی بھی والدین اپنی آخری عمر میں بے سہارا نہ رہے۔ اس قانون کے تحت والدین کی نگہداشت میں لاپرواہی برتنے والے سرکاری ملازم کی تنخواہ سے هر ماہ 10 ہزار روپے کٹ والدین کے اکاؤنٹ میں جمع ہوں گے
