
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی ریٹائرڈ جنرل اسحاق بریک نے ایران کے شدید میزائل حملوں کے بعد اسرائیل کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے 7 اکتوبر سے پہلے بھی خبردار کیا تھا، اور اب ان کی بات سنی جائے۔ ان کے مطابق اسرائیل اگرچہ میدان جنگ میں کامیابیاں حاصل کر رہا ہے، لیکن مجموعی اسٹریٹجک جنگ میں ناکام ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زمینی فوج کو نظر انداز کر دیا گیا ہے اور فضائیہ اکیلے جنگ نہیں جیت سکتی، جبکہ حزب اللہ دوبارہ مضبوط ہو کر سامنے آ چکی ہے۔ ان کے مطابق زمینی افواج شدید تھکن اور کمزوری کا شکار ہیں اور اسرائیل بیک وقت کئی محاذوں پر جنگ کے لیے تیار نہیں۔
بریک نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوا ہے اور وہ اسرائیل کو سنجیدہ چیلنج دینے میں کامیاب ہو چکی ہے۔ انہوں نے یہ بھی اعتراف کیا کہ حماس کو شکست نہیں دی جا سکی اور وہ دوبارہ اپنی ابتدائی طاقت کے ساتھ غزہ پر حکمرانی کر رہی ہے۔
انہوں نے مصر کے ساتھ تعلقات میں کشیدگی کو بھی خطرناک قرار دیا اور کہا کہ مصر اب پہلے جیسا اتحادی نہیں رہا، جو مستقبل میں ایک بڑا اسٹریٹجک خطرہ بن سکتا ہے۔
اسحاق بریک نے کہا کہ اسرائیل عملی طور پر اندر سے کھوکھلا ہو چکا ہے اور سیاسی قیادت، جس کی سربراہی بنیامین نیتن یاہو کر رہے ہیں، اور فوجی قیادت، ایال زمیر کی قیادت میں، اب بھی پرانے طریقوں سے حالات کو سنبھالنے کی کوشش کر رہی ہے، جبکہ نئے خطرات پہلے ہی سامنے آ چکے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ صرف فضائی طاقت کے ذریعے ایران کو شکست دینا یا ختم کرنا ممکن نہیں، اور اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو ایران روس اور چین کی حمایت سے اپنی فوجی صلاحیتیں دوبارہ بحال کر لے گا۔
بریک کے مطابق اسرائیل اب حکمت عملی کو چھوڑ کر صرف وقتی حربوں پر انحصار کر رہا ہے، جس کے باعث وہ چھوٹی لڑائیاں جیت رہا ہے لیکن اپنی بقا کی جنگ ہار رہا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر لبنان، شام، اردن، مغربی کنارے اور اندرونی شدت پسند عناصر سمیت کئی محاذوں سے بیک وقت حملہ ہوا تو اسرائیل کے لیے دفاع مشکل ہو جائے گا، خصوصاً اگر حزب اللہ، ایران اور ان کے اتحادی مشترکہ کارروائی کریں۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی عوام کو یہ سمجھنا ہوگا کہ آرام پسندی تیاری کی دشمن ہے، اور یہ وہم کہ تل ابیب کی محفوظ فضا میں بیٹھ کر معمول کی زندگی جاری رکھی جا سکتی ہے، ایک خطرناک غلطی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر غرور کو حقیقت پسندی سے، جھوٹ کو سچ سے اور خود فریبی کو زمینی حقائق کے جائزے سے تبدیل نہ کیا گیا تو اسرائیل کا وجود خطرے میں پڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق وقت تیزی سے گزر رہا ہے اور اس بار شاید بعد میں معافی مانگنے کا موقع بھی نہ ملے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو ایک آہنی مثلث یعنی فضائی، بحری اور زمینی افواج کے متوازن امتزاج کی ضرورت ہے، کیونکہ صرف فضائی قوت کے سہارے نہ جنگ جیتی جا سکتی ہے اور نہ ہی سرحدوں کا مؤثر دفاع ممکن ہے۔
