جزائر پر دوبارہ حملہ ہوا تو رأس‌الخیمه نشانہ ہوگا، ایرانی امارات کو سخت انتباہ

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جنگ کے بائیسویں روز عید سعید الفطر اور نوروز کی تقریبات کے باوجود عوام ملکی دفاع اور انقلاب کی حمایت میں پوری طاقت کے ساتھ میدان میں موجود ہیں۔

ایران نے واضح کیا ہے کہ امریکہ کے ساتھ علاقائی ممالک کی عملی شمولیت پر اب ایران مزید نظر انداز نہیں کرے گا۔

رمضان جنگ کے اس بائیسویں دن ایران نے متحدہ عرب امارات کو سخت اور واضح وارننگ دی۔ قرارگاه مرکزی خاتم‌الانبیا نے اعلان کیا کہ اگر امارات کی سرزمین سے ایرانی جزائر ابوموسی اور تنب بزرگ پر دوبارہ کوئی حملہ ہوا تو ایران کی مسلح افواج رأس‌الخیمه کو شدید اور کوبندہ حملوں کا ہدف بنائیں گی۔

سپاہ پاسداران نے اعلان کیا ہے کہ چونکہ اس علاقے کو ایرانی جزائر کے خلاف کارروائیوں کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے، اس لیے رأس الخیمہ کو مستقبل قریب میں نشانہ بنایا جائے گا۔ شہر کے تمام رہائشیوں سے کہا گیا ہے کہ وہ منسلک تصاویر میں دکھائے گئے مخصوص راستوں کے ذریعے فوراً شہر چھوڑ دیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ اس سے پہلے بھی آپ کے حکمرانوں کو بار بار خبردار کیا گیا تھا کہ اس راستے پر چلنا خطرناک ہے اور اس سے عوام کی جانیں خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ لیکن انہوں نے اندھی پیروی کا راستہ اختیار کیا اور ایسے فیصلے کیے جو عوام کی مرضی نہیں بلکہ بیرونی دباؤ کا نتیجہ ہیں۔ اس لیے اس کے تمام نتائج کی مکمل ذمہ داری انہی پر ہوگی۔

دراین اثناء سپاہ پاسداران نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن وعدہ صادق 4 کی 70ویں لہر میں 55 سے زیادہ اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔

سپاہ پاسداران کے شعبہ تعلقات عامہ نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں 55 سے زیادہ مقامات پر زور دار دھماکوں، آگ کے شعلوں اور دھوئیں کے بلند بادل دیکھے گئے۔ یہ حملے آپریشن وعدہ صادق 4 کی سترہویں لہر کے آغاز کے ساتھ ہی شروع ہوئے۔ یہ کارروائی ایران کے شہید فوجی مشیروں کی یاد میں اور نعرہ اللہ اکبر کے ساتھ انجام دی گئی۔

بیان کے مطابق اس کارروائی میں امریکہ کے پانچ اہم فوجی اڈوں— الخرج، الظفرہ، علی السالم، اربیل اور خاص طور پر امریکی بحریہ کے پانچویں بیڑے کو میزائلوں اور حملہ آور ڈرونز سے نشانہ بنایا گیا۔

سپاہ پاسداران کی فضائیہ نے خاص طور پر حیفا اور تل ابیب کے اہم علاقوں کو نشانہ بنایا۔ خدرا، کریات اونو، ساویون اور بن عامی سمیت کئی مقامات پر حملے کیے گئے۔ خرمشہر‑4 اور قدر جیسے میزائل استعمال کیے گئے جنہوں نے دشمن کے اندازوں سے زیادہ اہداف کو تباہ کیا اور اسرائیل کے زیر قبضہ علاقوں میں صورتحال کو مزید خراب کر دیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *