فاروق عبداللہ کے مطابق جمہوریت میں خیالات کا اختلاف ہونا فطری ہے، لیکن سب کو مل کر کام کرنا چاہیے اور اپنی بات رکھنے کا حق ہونا چاہیے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ منتخب حکومت کے پاس کافی اختیارات نہیں ہیں اور ایسے حالات میں نظام طویل عرصہ تک نہیں چل سکتا۔ ساتھ ہی انہوں نے یاد دلایا کہ جموں و کشمیر کو پھر سے ریاست کا درجہ دینے کا وعدہ کیا گیا تھا۔
’مجھے لگا پٹاخہ ہے، بعد میں پتہ چلا گولی چلی‘، حملے کے بعد فاروق عبداللہ نے سیکورٹی پر اٹھائے سوال
