مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان نے کہا ہے کہ ایران کی مسلح افواج موجودہ رفتار کے ساتھ کم از کم چھ ماہ تک شدید نوعیت کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے والوں نے تین بنیادی اندازے لگائے تھے جو مکمل طور پر غلط ثابت ہوئے۔ پہلا اندازہ یہ تھا کہ اگر رہبر انقلاب کو شہید کردیا جائے تو ایران 48 گھنٹوں کے اندر اندر داخلی طور پر منہدم ہوجائے گا، دوسرا یہ کہ جنگ صرف تین دن میں ختم ہوجائے گی، اور تیسرا یہ کہ ایران کے خلاف ایک وسیع علاقائی اور بین الاقوامی اتحاد تشکیل پاجائے گا۔ یہ تمام اندازے عملی میدان میں غلط ثابت ہوئے۔
انہوں نے بتایا کہ حالیہ فوجی کارروائیوں کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے فوجی اڈوں اور تنصیبات میں سے 200 سے زیادہ کو نشانہ بنایا گیا۔ ان حملوں میں تقریبا 60 فیصد حصہ خطے میں موجود امریکی اڈوں جبکہ 40 فیصد اسرائیلی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔
سپاہ کے ترجمان کے مطابق خطے میں امریکہ کے مربوط دفاعی نیٹ ورک کو بھاری نقصان پہنچا ہے۔ متعدد جدید ریڈار تباہ کیے گئے ہیں جن میں قطر کے العدید فوجی اڈے پر نصب اسٹریٹجک FPS ریڈار اور اردن و متحدہ عرب امارات میں نصب تھاڈ میزائل دفاعی نظام کے ریڈار شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب تک ہونے والی کارروائیوں میں زیادہ تر پہلے اور دوسرے درجے کی نسل کے میزائل استعمال کیے گئے ہیں، تاہم آئندہ مراحل میں کم استعمال ہونے والے جدید اور طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ساتھ حملوں کا ایک نیا انداز اختیار کیا جائے گا۔
