ایک خاتون مسافر نے بتایا کہ انہیں پہلے ہی خدشہ تھا کہ ان کی پرواز منسوخ ہو سکتی ہے۔ انہوں نے فضائی حدود اور مسافروں کی سلامتی کے حوالے سے گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب سے اہم انسانی جان ہے اور وہ یہی چاہتی ہیں کہ کشیدگی جلد ختم ہو، کیونکہ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں۔
مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال کے باعث نہ صرف سفری منصوبے متاثر ہوئے ہیں بلکہ فضائی کمپنیوں کو بھی غیر معمولی انتظامات کرنا پڑ رہے ہیں۔ مسافر اب حالات کے معمول پر آنے کے منتظر ہیں اور امید کر رہے ہیں کہ خطے میں امن قائم ہو تاکہ پروازوں کا سلسلہ بحال ہو سکے۔
