
مہر خبررساں ایجنسی، بین الاقوامی ڈیسک: امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی 2024 کی انتخابی مہم کے دوران بارہا یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ لامتناہی جنگوں کا خاتمہ کریں گے۔ انہوں نے سابق امریکی سیاست دانوں کے برعکس امن کو نعرہ بلند کیا تھا۔ سابق صدور نے امریکہ کو عراق اور افغانستان کی دلدل میں دھکیلا تھا۔ انہوں نے اُن ووٹرز سے خطاب کیا جو جنگ کے انسانی اور مالی نقصانات سے تنگ آچکے تھے، اور انہیں یقین دلایا کہ ان کی ترجیح بیرونی مہم جوئی نہیں بلکہ امریکہ کے قومی مفادات ہوں گے۔
اب وہی صدر ایران پر فوجی حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ اہم نکتہ یہ ہے کہ ٹرمپ کی جنگ پسند ٹیم کے مطالبات امریکی عوام کی بنیادی رائے سے متصادم ہیں۔ امریکہ میں ہونے والے حالیہ سروے ظاہر کرتے ہیں کہ اس ملک کے عوام ایران کے خلاف جنگ کی سخت مخالفت کرتے ہیں، اور یہ مخالفت اس قدر گہری ہے کہ اس نے روایتی ریپبلکن بنیاد کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ اس صورت حال میں ایران کے خلاف کسی بھی ممکنہ جارحیت سے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھے گی بلکہ داخلی سطح پر بھی ٹرمپ کو شدید سیاسی نقصان کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایران کے خلاف جنگ اور امریکی عوامی رائے
ایران کے خلاف جنگ کی مخالفت کی گہرائی کو سمجھنے کے لیے ماضی پر نظر ڈالنا کافی ہے۔ گیلپ کے ایک سروے کے مطابق جب اُس وقت کے امریکی صدر جارج ڈبلیو بش نے 2003 میں عراق پر حملہ کیا تو 72 فیصد امریکی عوام اس جنگ کے حامی تھے۔ بش انتظامیہ نے وسیع پیمانے پر یہ مؤقف اختیار کیا کہ عراق کے پاس بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار موجود ہیں اور صدام حسین عالمی سلامتی کے لیے خطرہ ہیں، اور یہی بیانیہ عوامی رائے کو اپنے حق میں ہموار کرنے میں کامیاب رہا۔ اب اگر صدر ٹرمپ ایران کے خلاف جنگ چھیڑنا چاہتے ہیں تو انہیں اندرون ملک نہایت پیچیدہ صورتحال کا سامنا ہوگا۔ ایس ایس آر ایس انسٹی ٹیوٹ اور میری لینڈ یونیورسٹی کے مشترکہ حالیہ سروے کے مطابق، جو 5 سے 9 فروری 2026 کے درمیان کیا گیا، صرف 21 فیصد امریکی ایران پر فوجی حملے کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ 49 فیصد واضح طور پر اس کی مخالفت کرتے ہیں۔ 30 فیصد افراد کی کوئی واضح رائے نہیں ہے۔ ان اعداد و شمار کو اگر عراق جنگ کے وقت کی 72 فیصد حمایت سے موازنہ کیا جائے تو یہ امریکی عوامی رائے میں غیر معمولی فرق کو ظاہر کرتے ہیں اور اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ماضی کی جنگوں کی تلخ یادیں ابھی تک لوگوں کے ذہنوں سے محو نہیں ہوئیں۔
یہ اختلاف صرف مجموعی عوام تک محدود نہیں بلکہ ریپبلکن حلقوں میں بھی واضح ہے، جو ٹرمپ کی انتخابی قوت کی بنیاد سمجھے جاتے ہیں۔ اسی سروے کے مطابق صرف 40 فیصد ریپبلکن ووٹرز ایران پر حملے کے حامی ہیں، 25 فیصد مخالفت کرتے ہیں جبکہ 35 فیصد غیر یقینی کا شکار ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ اس معاملے پر ٹرمپ کی اپنی سماجی بنیاد بھی شدید تقسیم کا شکار ہے۔ ریپبلکن ووٹرز میں جنگ سے گریز کا رجحان اس امر کی علامت ہے کہ حتی کہ ٹرمپ کے وفادار حامی بھی کسی نئی فوجی مہم جوئی کی قیمت ادا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ایران میں مداخلت اور امریکی عوام کی مخالفت
19 سے 23 فروری 2026 کے دوران کیے گئے ایسوسی ایٹڈ پریس-نورک پبلک افیئرز ریسرچ سینٹر کے سروے کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ تقریباً 48 فیصد امریکی بالغ افراد ایران کے جوہری پروگرام کو اپنے ملک کے لیے بہت بڑا یا انتہائی سنگین خطرہ سمجھتے ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکی عوام میں ایران کے جوہری پروگرام کے حوالے سے تشویش اب بھی موجود ہے اور وہ اسے سنجیدگی سے دیکھتے ہیں۔
تاہم اسی سروے کے مطابق صرف تقریباً 30 فیصد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے فوجی طاقت کے استعمال سے متعلق فیصلوں پر اعتماد کرتے ہیں۔ اس کے برعکس نصف سے زیادہ امریکیوں نے کہا کہ وہ اس معاملے میں ٹرمپ پر کم یا بالکل بھی اعتماد نہیں کرتے۔ یہ عدم اعتماد 45 سال سے کم عمر نوجوان ریپبلکن ووٹرز میں بھی دیکھا گیا، جہاں صرف تقریباً نصف افراد ٹرمپ کے فوجی فیصلوں پر اعتماد کرتے ہیں، جبکہ بڑی عمر کے ریپبلکن ووٹرز میں یہ شرح تقریباً دو تہائی ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ریپبلکن جماعت کی نئی نسل کو بھی دیگر سیاسی گروہوں کی طرح اپنے رہنماؤں کے فیصلوں کے بارے میں شک ہے۔
دی اکانومسٹ اور یو گاو کے مشترکہ سروے، جو 30 جنوری سے 2 فروری کے درمیان کیا گیا، کے مطابق 48 فیصد امریکی ایران کے خلاف فوجی کارروائی کی مخالفت کرتے ہیں جبکہ صرف 28 فیصد اس کی حمایت کرتے ہیں۔ یعنی 72 فیصد امریکی یا تو مخالفت کرتے ہیں یا اس بارے میں غیر یقینی کیفیت رکھتے ہیں۔
اسی طرح کوئنپیاک یونیورسٹی کے سروے، جو 8 سے 12 جنوری کے درمیان کیا گیا، میں 70 فیصد امریکیوں نے کہا کہ امریکہ کو ایران کے داخلی معاملات میں مداخلت نہیں کرنی چاہیے، جبکہ صرف 18 فیصد اس کے حق میں ہیں۔ یہ سروے اس بیان کے ایک ہفتے بعد کیا گیا تھا جب ٹرمپ نے کہا تھا کہ اگر ایران نے پرامن مظاہرین کو نقصان پہنچایا تو امریکہ کارروائی کے لیے تیار ہوگا، لیکن عوام نے اس جواز کو بھی قبول نہیں کیا کہ یہ مداخلت مظاہرین کی حمایت میں کی جارہی ہے۔
ٹرمپ کی جنگی اور معاشی پالیسیاں داخلی مزاحمت اور عدالتی فیصلوں کی زد میں
عوامی سروے کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیاسی حمایتی حلقے کے نمایاں افراد نے بھی ایران پر حملے اور عمومی طور پر بیرونی فوجی مہم جوئی کی کھل کر مخالفت کی ہے۔ اسٹیو بینن، جو ٹرمپ کے سابق مشیر اور میگا تحریک کے اہم نظریاتی رہنما سمجھے جاتے ہیں، نے واضح طور پر کہا ہے کہ میگا تحریک کے بنیادی اصولوں میں لامتناہی جنگوں کی مخالفت شامل ہے۔
اسی طرح ریپبلکن رکن کانگریس مارجوری ٹیلر گرین نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ بیرونی جنگیں امریکہ کو کمزور کرتی ہیں، بے گناہ لوگوں کی جان لیتی ہیں اور ملک کو مالی مشکلات میں مبتلا کرتی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ لاکھوں امریکیوں نے “امریکہ پہلے” کے وعدے پر ووٹ دیا تھا، اس لیے یہ جنگ امریکی مفادات سے متعلق نہیں ہے۔
دائیں بازو کی نوجوان تنظیم ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے بانی چارلی کرک نے بھی خبردار کیا کہ ٹرمپ کے ووٹرز، خاص طور پر نوجوان طبقہ، انہیں اس لیے سپورٹ کرتا تھا کیونکہ وہ اپنی زندگی میں پہلے صدر تھے جنہوں نے کوئی نئی جنگ شروع نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو کسی نئی جنگ کی ہرگز ضرورت نہیں ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کو معاشی میدان میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔ 21 فروری 2026 کو ریاستہائے متحدہ امریکہ کی سپریم کورٹ نے 6 کے مقابلے میں 3 ووٹوں سے فیصلہ دیا کہ تجارتی شراکت داروں کے خلاف لگائے گئے وسیع جوابی محصولات غیر قانونی ہیں اور صدر نے اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے۔ چیف جسٹس جان رابرٹس نے واضح کیا کہ صدر یکطرفہ طور پر ایسے محصولات عائد نہیں کرسکتے۔ اس فیصلے نے ٹرمپ کے معاشی منصوبے اور امریکی صنعت کو بحال کرنے کے وعدوں کو شدید نقصان پہنچایا۔ ٹرمپ نے امریکی کارخانوں کو واپس لانے کے لیے محصولات لگانے کا وعدہ کیا تھا، مگر اب انہیں وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایک بڑی سیاسی اور معاشی ناکامی کا سامنا ہے۔
2026 کے وسط مدتی انتخابات اور ایران جنگ کا اثر
2026 کے نومبر میں وسط مدتی انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ حالیہ سروے کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی کے جیتنے کے امکانات ریپبلکن پارٹی کے مقابلے میں زیادہ ہیں۔ 9 فروری کے سروے میں دی اکانومسٹ-یو گاو کے مطابق 39 فیصد ووٹرز ڈیموکریٹس کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ صرف 31 فیصد ریپبلکنز کی حمایت میں ہیں۔ اسی طرح پیش گوئی کرنے والے پلیٹ فارمز جیسے پلے مارکیٹ کے مطابق ایوان نمائندگان میں ڈیموکریٹس کی جیت کے امکانات تقریبا 83 فیصد ہیں۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خود ریپبلکنز کو خبردار کیا ہے کہ اگر پارٹی کانگریس کا کنٹرول کھو دیتی ہے تو ان کے خلاف مواخذے کی کارروائی شروع ہوسکتی ہے۔
مختلف سروے رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کی عوامی مقبولیت کی شرح اوسطاً 42 فیصد ہے جبکہ 55 فیصد لوگ ان کی پالیسیوں کو ناپسند کرتے ہیں۔ اگر ٹرمپ عوامی رائے اور اپنی جماعت کے انتباہات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایران کے خلاف جنگ شروع کرتے ہیں تو پہلے ہی بڑے جانی نقصانات اور امریکی فوجیوں کی لاشوں کی واپسی کے ساتھ عوامی غصے کی لہر بے قابو ہوسکتی ہے۔ عراق اور افغانستان کی جنگوں کے تجربات سے ظاہر ہوا ہے کہ جب امریکی عوام اپنے فوجیوں کے تابوتوں کی تصاویر دیکھتے ہیں تو وہ حکومت کے خلاف سخت ردعمل دیتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں نہ صرف وسط مدتی انتخابات میں ریپبلکنز کو شدید نقصان ہوسکتا ہے بلکہ ٹرمپ اپنی صدارت کے آخری دو سال ڈیموکریٹک کانگریس کے ساتھ گزارنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔ ڈیموکریٹس اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ٹرمپ کے خلاف مسلسل تحقیقات اور سیاسی دباؤ پر مبنی سماعتوں کا سلسلہ شروع کرسکتے ہیں تاکہ انہیں سیاسی طور پر کمزور کیا جاسکے۔
ایران کے خلاف جنگ: ٹرمپ کے لیے اندرونی اور بیرونی چیلنجز
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حامی حلقے، خصوصاً میگا (MAGA) تحریک کے ووٹرز، جو “جنگ نہیں” کے نعرے کے ساتھ انتخابات میں آئے تھے، کسی ایسی مہم جوئی کو کبھی معاف نہیں کریں گے جس کے نتیجے میں نوجوان امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوں۔ عوامی رائے، جو آج سرویز میں واضح طور پر جنگ کی مخالف ہے، اگر جنگ شروع ہوجاتی ہے تو سڑکوں پر احتجاج کی شکل اختیار کرسکتی ہے، جس سے ٹرمپ کو بڑے عوامی مظاہروں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے اور سیاسی طور پر ان کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔
اس کے علاوہ امریکہ کی داخلی صورتحال کے ساتھ ساتھ ایران نے سخت انتباہ جاری کیا ہے کہ اس بار کسی بھی حملے کی صورت میں علاقائی جنگ چھڑ سکتی ہے اور حملہ آوروں کو شدید نقصان پہنچایا جائے گا۔ ایرانی حکام نے بارہا زور دیا ہے کہ ایران کی دفاعی حکمت عملی جوابی اور دردناک ردعمل پر مبنی ہے، اور صدر ٹرمپ کی کسی بھی غلط اندازے بازی کا جواب فوری اور سخت دیا جائے گا۔
اس وقت ٹرمپ ایک ایسے سیاسی اور عسکری چیلنج کا سامنا کر رہے ہیں جس میں کسی بھی غلط فیصلے کی صورت میں وہ نہ صرف اپنی سیاسی مستقبل بلکہ ریپبلکن جماعت کے سیاسی مستقبل کو بھی بڑے خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔
