
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی سرحدی سیکورٹی فورسز نے صوبہ خراسان رضوی میں افغانستان سے ملحقہ سرحدی علاقے کے قریب کاروائی کرتے ہوئے اسلحہ اور گولہ بارود کی ایک کھیپ برآمد کرلی ہے۔
سرحدی محافظوں کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل مجید شجاع نے بتایا کہ یہ کارروائی سرحدی پٹی کو محفوظ بنانے اور ملک میں اسلحے کی اسمگلنگ روکنے کی جاری مہم کے تحت انجام دی گئی۔
ان کے مطابق غیرقانونی آمد و رفت کو روکنے اور اسلحہ اسمگلروں کے خلاف سخت کارروائی کے سلسلے میں تایباد رجمنٹ کے اہلکاروں نے کامیاب انٹیلی جنس آپریشن کے دوران اسلحے کی کھیپ کا سراغ لگایا۔
انہوں نے کہا کہ خفیہ اطلاعات موصول ہوئی تھیں کہ اسلحہ اور گولہ بارود کو سرحدی علاقے میں منتقل کیا گیا ہے تاکہ اسے ملک کے اندرونی علاقوں تک پہنچایا جاسکے۔ اس اطلاع کے بعد خصوصی کارروائی کا آغاز کیا گیا۔
بریگیڈیئر جنرل مجید شجاع کے مطابق مشترکہ انٹیلی جنس کارروائی کے دوران سیکیورٹی تقاضوں کے مطابق مخصوص علاقے کی مکمل تلاشی لی گئی، جہاں سے آٹھ پستول، سولہ میگزین، بارہ دھماکا خیز ڈیٹونیٹر اور ایک دستی بم برآمد ہوا۔ ضبط شدہ اسلحہ متعلقہ عدالتی حکام کے حوالے کر دیا گیا ہے۔
کمانڈر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ سرحدی محافظ چوبیس گھنٹے ملک کی سرحدوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ہیں اور جامع انٹیلی جنس نگرانی اور درست آپریشنل اقدامات کے ذریعے اسمگلروں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی جاری رکھی جائے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی مشرقی اور مغربی سرحدوں پر غیرملکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف کارروائیاں معمول کا حصہ ہیں اور سیکیورٹی ادارے ہر ممکن خطرے کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔
