یہ بیان سپریا شرینیت نے ایک ویڈیو کے ذریعہ جاری کیا ہے، جسے کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر پوسٹ کی ہے۔ اس میں وہ کہتی ہوئی نظر آ رہی ہیں کہ ’’بی جے پی والوں کو جشن مناتے دیکھ کر کوئی حیرت نہیں ہوئی، وہ ملک مخالفین کا جھُنڈ جو ٹھہرے۔‘‘ یہ تلخ تبصرہ کرنے کے بعد انھوں نے تجارتی معاہدہ کے کچھ ضابطوں کا ذکر کیا۔ انھوں نے کہا کہ ’’اس تجارتی معاہدہ کے مطابق امریکہ ہندوستانی ایکسپورٹ پر 18 فیصد ٹیرف لگائے گا، جبکہ ابھی تک ہندوستان پر امریکہ اوسطاً 3 فیصد سے کم ٹیرف لگاتا تھا۔ ہندوستان امریکی سامانوں پر صفر ٹیرف لگائے گا، جبکہ اب تک ہندوستان امریکہ پر 30 سے 100 فیصد ٹیرف لگاتا تھا۔‘‘ وہ یہ بھی بتاتی ہیں کہ ’’امریکہ سے ہندوستان 500 ارب ڈالر کی توانائی، ٹیکنالوجی، زرعی مصنوعات اور کوئلہ کی خریداری کرے گا، ساتھ ہی دیگر چیزوں کی خرید میں اضافہ کرے گا۔ ہندوستان سستا تیل بھی روس سے نہیں خریدے گا۔ اس کی جگہ امریکہ اور وینزویلا سے تیل کی خریداری ہوگی۔‘‘
’بربادیوں کا جشن مناتا چلا گیا…‘، ہند-امریکہ تجارتی معاہدہ پر حکومت کے جشن کو کانگریس نے بتایا بیوقوفی
