مادھو گاڈگل کے انتقال پر کانگریس قیادت کا اظہارِ رنج، جے رام رمیش نے خدمات کو بے مثال قرار دیا

جے رام رمیش نے کہا کہ مادھو گاڈگل ایک اعلیٰ پایے کے تعلیمی سائنس دان ہونے کے ساتھ ساتھ فیلڈ ریسرچر، ادارہ ساز اور عوام سے مؤثر رابطہ قائم کرنے والے دانشور تھے۔ انہوں نے جدید سائنس کی اعلیٰ ترین جامعات سے تعلیم حاصل کی، مگر ساتھ ہی روایتی علمی نظام، خاص طور پر حیاتیاتی تنوع کے تحفظ سے جڑی مقامی دانش، کے پختہ حامی رہے۔ ان کے مطابق یہی امتزاج مادھو گاڈگل کو اپنے ہم عصروں میں منفرد بناتا ہے۔

جے رام رمیش نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی پالیسی پر مادھو گاڈگل کا اثر گہرا اور دیرپا رہا۔ ستر اور اسی کی دہائی میں خاموش وادی بچاؤ تحریک میں ان کا کردار ماحولیاتی سیاست کی سمت متعین کرنے والا ثابت ہوا، جبکہ اسی دور میں بستر کے جنگلات کے تحفظ کے لیے ان کی مداخلت نے جنگلاتی پالیسی میں سائنسی بنیادوں کو مضبوط کیا۔ بعد ازاں نباتاتی سروے آف انڈیا اور حیواناتی سروے آف انڈیا کو نئی فکری سمت دینا بھی ان کی نمایاں خدمات میں شامل رہا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *