ایران کی جوہری صنعت میں بڑی پیشرفت؛ انڈسٹریل ایکسلریٹر کا آغاز اور سائیکلوٹرون دوبارہ فعال

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی ایٹمی توانائی تنظیم (AEOI) کے ترجمان بہروز کمالوندی نے منگل کے روز ایرانی پارلیمنٹ کی قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرکت کے بعد یہ اعلان کیا۔ انہوں نے اس اجلاس میں قانون سازوں کو تنظیم کی تازہ ترین سرگرمیوں کے بارے میں بریفنگ دی۔

اجلاس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صرف کل ہی تنظیم کی جانب سے تین بنیادی پیشرفتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ ملک میں پہلی بار ایک انڈسٹریل ایکسلریٹر شروع کیا گیا ہے، جو ماحولیاتی تحفظ، طب، جوہری ٹیکنالوجی اور سائنسی تحقیق جیسے مختلف شعبوں میں بہت استمال ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ ایکسلریٹر مکمل طور پر مقامی ہے، جسے ایرانی ماہرین نے چار سال کے عرصے میں ڈیزائن اور تیار کیا ہے، اور اس ہفتے باضابطہ طور پر اس کا آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔

ترجمان نے 12 میٹر طویل ٹاور کی تنصیب کے ذریعے نیم صنعتی پیمانے پر جدید کاربن-13 کی پیداوار کے آغاز کا بھی ذکر کیا۔ اس آئی سو ٹوپ کے طب، جوہری سائنس، ریڈیو فارماسیوٹیکلز، مختلف صنعتوں اور ماحولیاتی مطالعہ میں وسیع پیمانے پر استعمال ہیں۔

مزید برآں، کمالوندی نے ایک ایسے سائیکلوٹرون کو کامیابی سے دوبارہ فعال کرنے کا اعلان کیا جو تقریباً دو سال سے غیر فعال تھا، کیونکہ پابندیوں نے ضروری پرزوں کی درآمد میں رکاوٹیں کھڑی کر دی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ آلات اور پرزوں کی عدم دستیابی کے باوجود، ہمارے مقامی ماہرین تمام ضروری پرزہ جات تیار کرنے میں کامیاب رہے۔ خوش قسمتی سے، سائیکلوٹرون نے کل سے دوبارہ کام شروع کر دیا ہے اور یہ ریڈیو فارماسیوٹیکل کی تیاری میں معاون ثابت ہوگا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *