
حیدرآباد _ 31 دسمبر ( اردولیکس ڈیسک) جرمنی میں ایک بڑے بینک میں سنسنی خیز ڈکیتی کا واقعہ پیش آیا ہے۔ Gelsenkirchen میں واقع Sparkasse Bank کی ایک شاخ کو نشانہ بناتے ہوئے چوروں نے تقریباً 30 ملین یورو (تقریباً 316 کروڑ روپے) لوٹ لیے۔
تفصیلات کے مطابق، کرسمس کی تعطیلات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ملزمان دو دن تک بینک کے اندر موجود رہے اور 3250 سے زائد سیفٹی ڈپازٹ بکس توڑ ڈالے۔ لاکروں میں موجود نقد رقم، سونے کے زیورات اور قیمتی اشیا چوری کرلی گئیں۔
پولیس کے مطابق، ملزمان نے بویئر علاقے میں واقع اسپارکاسے بینک کی شاخ کو نشانہ بنایا۔ وہ قریب ہی موجود پارکنگ گیراج کے راستے بینک میں داخل ہوئے اور زیرِ زمین واقع والٹ روم تک پہنچنے کے لیے ڈرل مشین سے سوراخ کیا۔ اس کے بعد تین ہزار سے زائد سیف ڈپازٹ بکس توڑ کر قیمتی سامان سمیٹ لیا۔ پیر کی علی الصبح فائر الارم بجنے پر اس واردات کا انکشاف ہوا۔
اطلاع ملتے ہی پولیس اور فائر بریگیڈ کے اہلکار موقع پر پہنچے اور والٹ روم کے قریب سوراخ کی تصدیق کی۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب گیراج کی سیڑھیوں کے قریب چند افراد کو بڑے بیگ اٹھائے جاتے دیکھا گیا تھا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج کے جائزے میں یہ بھی سامنے آیا کہ پیر کی صبح ماسک پہنے افراد سیاہ رنگ کی Audi A6 کار میں فرار ہوگئے۔
پولیس کا کہنا ہے کہ چوروں نے کرسمس کی تعطیلات کو موقع بنا کر واردات انجام دی اور شبہ ہے کہ دونوں تعطیلات کے دوران وہ بینک کے اندر ہی موجود رہے۔ بینک انتظامیہ کے مطابق مجموعی سیف ڈپازٹ بکس میں سے تقریباً 95 فیصد ڈکیتی کا شکار ہوئے ہیں، جبکہ ہر بکس کی زیادہ سے زیادہ قیمت 10,300 یورو بتائی گئی ہے۔ اس طرح مجموعی نقصان کا تخمینہ 30 ملین یورو لگایا جا رہا ہے۔
واقعے کے انکشاف کے بعد صارفین میں شدید تشویش پھیل گئی۔ منگل کے روز بڑی تعداد میں صارفین بینک پہنچے اور احتجاج کیا، جس پر پولیس نے حالات کو قابو میں رکھا۔ سکیورٹی وجوہات کے پیش نظر بینک کو عارضی طور پر بند کردیا گیا ہے
۔ بینک حکام نے صارفین کی رہنمائی کے لیے ہاٹ لائن قائم کرنے، تحریری طور پر جواب دینے اور انشورنس کمپنی کے ساتھ مل کر کلیم کے عمل کو آگے بڑھانے کا اعلان کیا ہے۔ بینک انتظامیہ نے اس واقعے پر شدید صدمے کا اظہار کرتے ہوئے صارفین کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے۔
