مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، اسلامی تعاون تنظیم اور 21 اسلامی و عرب ممالک نے صہیونی حکومت کی جانب سے صومالی لینڈ کو بطور خودمختار ریاست تسلیم کرنے کے اعلان کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے اس کی شدید مذمت کی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق، او آئی سی اور متعدد اسلامی و عرب ممالک نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ صہیونی حکومت کا یہ اقدام بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کے منشور کی صریح خلاف ورزی ہے، جو ریاستوں کی خودمختاری، وحدت اور علاقائی سالمیت کے تحفظ پر زور دیتا ہے۔
اسلامی جمہوری ایران، مصر، اردن، الجزائر، سعودی عرب، پاکستان اور ترکی سمیت کئی اسلامی و عرب ممالک کے دستخط کے ساتھ جاری ہونے والے اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ صہیونی حکومت کی جانب سے وفاقی جمہوریہ صومالیہ کے ایک حصے صومالی لینڈ کو تسلیم کرنا قطعی طور پر ناقابل قبول ہے۔
مشترکہ بیان میں صومالیہ کی مکمل خودمختاری، وحدت اور اس کے تمام علاقوں پر حکمرانی کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ کوئی بھی ایسا اقدام جو صومالیہ کی علاقائی سالمیت کو نقصان پہنچائے، مسترد کیا جاتا ہے۔
واضح رہے کہ جمعے کے روز صہیونی حکومت نے صومالی لینڈ کو ایک آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کیا تھا۔ صہیونی وزیر خارجہ گدعون ساعر کے مطابق، دونوں فریقین کے درمیان مکمل سفارتی تعلقات کے قیام کا معاہدہ طے پا گیا ہے، جس میں سفیروں کا تقرر اور سفارت خانوں کا قیام شامل ہے۔
دوسری جانب صہیونی وزیر اعظم نیتن یاہو نے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے صومالی لینڈ کے علیحدگی پسند سربراہ عبدالرحمن محمد عبداللہی سے رابطہ کیا اور انہیں مقبوضہ فلسطینی علاقوں کے دورے کی دعوت دی۔ صہیونی وزیر اعظم نے اس معاہدے کو تعاون کے فروغ کا موقع قرار دیا۔
صہیونی وزیر اعظم کے دفتر نے دعوی کیا ہے کہ یہ معاہدہ نام نہاد ’’ابراہیم معاہدے‘‘ کے دائرہ کار میں طے پایا ہے، جبکہ صہیونی میڈیا اس سے قبل صومالی لینڈ کو غزہ کے فلسطینیوں کی جبری منتقلی کے ممکنہ مقامات میں سے ایک قرار دے چکا ہے۔
یاد رہے کہ صومالی لینڈ کے علیحدگی پسندوں نے 1991 میں صومالیہ سے علیحدگی کا اعلان کیا تھا، تاہم تاحال اقوام متحدہ کے کسی بھی رکن ملک نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ یہ گروہ اس وقت صومالیہ کے شمالی حصے پر قابض ہے۔
