
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ بوشہر میں قائم ایران کے پہلے جوہری بجلی گھر کے آئندہ مراحل کے حوالے سے روس کے ساتھ بات چیت جاری ہے۔ روس نے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ تعمیر کیا جو دونوں ممالک کے تعلقات کی ایک نمایاں علامت بن چکا ہے اور اس تعاون کو مزید وسعت دینے پر مذاکرات ہورہے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق سید عباس عراقچی نے روس کی میگیمو یونیورسٹی میں خطاب کے دوران ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر حملے کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تنصیبات عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کی نگرانی میں ہیں، اس کے باوجود ان پر حملہ عالمی نظام میں بڑھتی ہوئی بے قاعدگی اور قانون شکنی کی واضح مثال ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ ماضی میں کم از کم ایسے اقدامات کو قانونی جواز دینے کی کوشش کی جاتی تھی، مگر اب وہ ظاہری پردہ بھی ہٹا دیا گیا ہے اور طاقت کے استعمال کو کھلے عام خارجہ پالیسی کا حصہ بنایا جا رہا ہے۔ ایران کے خلاف حالیہ جنگ میں یہ حقیقت پوری طرح سامنے آئی، جب مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا گیا۔
سید عباس عراقچی نے کہا کہ ایران نے دباؤ قبول کرنے کے بجائے مزاحمت کا راستہ اختیار کیا اور اپنی دفاعی اور میزائل صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے بھرپور جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرچہ یہ دعویٰ کیا گیا کہ ایران کی فضائی حدود دشمن کے کنٹرول میں تھیں، لیکن یہ حقیقت نظر انداز کردی گئی کہ مقبوضہ علاقوں کی فضائیں ایرانی میزائلوں کی زد میں تھیں۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی قوم کی مزاحمت کے نتیجے میں مخالف فریق غیرمشروط تسلیم کے مطالبے سے پیچھے ہٹ کر غیرمشروط جنگ بندی پر آگیا، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ موجودہ عالمی نظام میں ممالک کے لیے طاقتور ہونا ناگزیر ہوچکا ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے روس، چین اور دیگر ممالک کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے جنگ کے دوران ایران کی حمایت کی اور جارحیت کی مذمت کی۔ یہ حمایت ایران اور روس کے تعلقات میں ایک تاریخی موڑ کی حیثیت رکھتی ہے جسے کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔
عراقچی نے مزید کہا کہ ایران کے روس اور چین سمیت متعدد ممالک کے ساتھ تعلقات مسلسل فروغ پا رہے ہیں۔ روس کے ساتھ قریبی سیاسی مشاورت، اعلی سطحی روابط اور بڑے اقتصادی منصوبے جاری ہیں، جن میں شمال۔جنوب راہداری منصوبہ نمایاں ہے جو روس کو خلیج فارس اور بحر ہند سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرے گا اور تجارتی نقل و حمل کو تیز اور کم لاگت بنائے گا۔
