
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، جارج واشنگٹن یونیورسٹی سے وابستہ تحقیقی ادارے نیشنل سیکیورٹی آرکائیو کی جانب سے جاری کردہ ڈی کلاسیفائیڈ دستاویزات میں آیا ہے کہ روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے 2008 میں ہی جارج ڈبلیو بش کو یوکرین کی نیٹو میں شمولیت پر طویل مدتی تصادم کی وارننگ دی تھی۔
امریکی نیشنل سیکیورٹی کونسل کے مترجمین کے مطابق پوٹن نے کہا تھا کہ میں وہی دہرانا چاہتا ہوں جو میں نے ماسکو میں کونڈولیزا رائس اور رابرٹ گیٹس سے نیٹو کی توسیع کے بارے میں کہا تھا۔ یوکرین جیسے ملک کی نیٹو میں شمولیت آپ کے اور ہمارے درمیان ایک طویل مدتی تنازع اور تصادم کا میدان پیدا کرے گی۔
جب بش نے اس کی وجہ پوچھی تو پوٹن نے جواب دیا کہ اس سے نیٹو کے فوجی اڈوں اور مختلف اسلحہ سسٹمز کو روسی سرحد کے بالکل قریب منتقل کرنے کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ اس کے علاوہ انہوں نے نوٹ کیا کہ تمام یوکرینی باشندے نیٹو رکنیت پر خوش نہیں ہیں اور یوکرین کی آبادی کا ایک تہائی حصہ یعنی 1.7 کروڑ لوگ روسی نژاد ہیں۔
فروری 2024 میں امریکی صحافی ٹکر کارلسن کو دیے گئے انٹرویو میں پوٹن نے انکشاف کیا کہ واشنگٹن نے دوسرے نیٹو ممالک پر دباؤ ڈالا تاکہ یوکرین اور جارجیا کو اتحاد میں شامل کرنے کے آئیڈیا کو فروغ دیا جا سکے۔ پوٹن کے بقول 2008 میں انہوں نے اعلان کیا کہ یوکرین اور جارجیا کے لیے نیٹو کے دروازے کھلے ہیں۔ جرمنی اور فرانس اس کے خلاف دکھائی دیتے تھے، لیکن بش نے ان پر دباؤ ڈالا اور انہیں اتفاق کرنا پڑا۔
پیوٹن نے سوال اٹھایا کہ وہ کہتے ہیں کہ یوکرین نیٹو میں نہیں ہوگا، لیکن آپ نے 2008 میں اتفاق کیا تھا۔ کیا ضمانت ہے کہ کل وہ آپ پر دوبارہ دباؤ نہیں ڈالیں گے اور آپ پھر سے مان نہیں جائیں گے؟ یہ سب بے معنی ہے۔ ہم بات کرنے کے لیے تیار ہیں، لیکن کس سے؟ ضمانتیں کہاں ہیں؟
واضح رہے کہ اپریل 2008 میں بخارسٹ سمٹ کے اعلامیے میں یوکرین اور جارجیا کو نیٹو میں شامل کرنے کا تحریری وعدہ شامل کیا گیا تھا۔ فروری 2019 میں یوکرین کی پارلیمنٹ نے آئین میں ترامیم منظور کیں تاکہ نیٹو رکنیت کی کوششوں کو آئینی تحفظ دیا جا سکے، جبکہ موجودہ صدر ولادیمیر زیلنسکی بھی بارہا نیٹو میں شمولیت کی خواہش ظاہر کر چکے ہیں۔
