حالانکہ سپریم کورٹ کے حکم میں کہیں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ کتوں کی نگرانی اساتذہ کو ہی کرنا ہے۔ لیکن جس طرح زیادہ تر سرکاری کام کاج اساتذہ کے سرتھوپ دیا جاتا ہے اسی طرح اس بار بھی آوارہ کتوں کے پیچھے ماسٹر صاحب کو لگا دیا گیا ہے۔ خواہ چھتیس گڑھ کا مستقبل معصوم بچے تعلیم سے محروم رہ جائیں۔ اس فیصلے کی سیاسی حلقوں سے لے کرعوامی حلقوں میں بھی شدید تنقید کی جارہی ہے۔
بچوں کی پڑھائی چھوڑکر کتوں کے پیچھے دوڑیں گے ٹیچر، محکمہ تعلیم کے فیصلے سے چھتیس گڑھ کے اساتذہ حیران!
