دهلی، 15 نومبر ۲۰۲۵:
نمایندۂ ولی فقیہ برای هند، آیتالله دکتر عبدالمجید حکیمالهی نے اپنے وفد کے ہمراہ جماعت اسلامی ہند کے امیر، ڈاکٹر سید سعادتالله حسینی سے جماعت اسلامی ہند کے مرکزی دفتر دہلی میں ایک اہم اور جامع ملاقات کی۔ یہ ملاقات دونوں اداروں کے درمیان دیرینہ تعلقات، فکری ہم آہنگی اور مستقبل کے اشتراکِ عمل کے نئے امکانات کو مزید مستحکم کرنے کی راہ میں ایک اہم قدم ہے
ملاقات کا آغاز خوشگوار ماحول میں ہوا جہاں ڈاکٹر سید سعادتالله حسینی نے وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دفترِ نمایندگی رهبری اور جماعت اسلامی ہند کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط ہیں، اور دونوں اداروں نے ہمیشہ ہندوستانی مسلمانوں کی دینی، فکری اور سماجی رہنمائی میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا ہے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جماعت اسلامی ہند معتدل اسلام کی ترجمان ہے اور بین المذاہب گفتوگو میں یقین رکہتی ہے
عصرِ حاضر کے چیلنجز اور نوجوان نسل
آیتالله حکیمالهی نے اپنی گفتگو میں نوجوان نسل کے فکری بحران، سوشل میڈیا کے اثرات اور مغربی تہذیبی یلغار کے گہرے منفی نقوش پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ آج معاشرے میں 70 فیصد نوجوان براہِ راست انٹرنیٹ کے ذریعے اپنی فکری غذا حاصل کر رہے ہیں، اور ایسے ماحول میں علما، دینی مراکز اور جماعت اسلامی جیسے اداروں پر ذمہ داری دوگنی ہو جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ دنیا بھر میں خودکشی کی بڑھتی شرح، خاندانی نظام کا ٹوٹنا اور دینی شعور کی کمزوری اس بات کا تقاضا کرتی ہے کہ اسلامی مراکز آن لائن مؤثر موجودگی اختیار کریں۔
دور حاضر میں اسلام کی تین مختلف قرأیت
آیتالله حکیمالهی نے اسلام کی موجودہ تین نمایاں تعبیرات کو تفصیل سے بیان کیا:
تکفیری اسلام – شدت پسندی، تشدد اور دیگر فرقوں کی نفی پر متمرکز ہے جس کی مثالیں داعش، القاعدہ اور بوکوحرام جیسے گروہ ہیں
لیبرل اسلام – اسلامی تعلیمات کو مغربی اقدار کے تابع کرنے کی کوشش، جس کا نتیجہ فلسطین اور غزہ کے مسئلے پر اسلامی دنیا کی کمزور پوزیشن کی صورت میں ظاہر ہوا۔
معتدل اسلام – وہ اسلامی فکر جو انصاف، گفتوگو، امن اور ظلم کے خلاف مزاحمت کے اصولوں پر استوار ہے؛ اور یہی وہ راستہ ہے جس پر ایران، علماے ہند اور جماعت اسلامی ہند یکساں طور پر متفق ہیں۔
انہوں نے جماعت اسلامی ہند کی جانب سے ۱۲ روزہ ایران اور اسرائیل کے درمیان ہونے والی جنگ میں ایران کی حمایت پر جماعت اسلامی ہند کا خصوصی شکریہ بھی ادا کیا۔
مشترکہ منصوبوں پر اتفاق
ملاقات میں دونوں فریقوں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ آنے والے دنوں میں:
مشترکہ تحقیقی اور علمی منصوبے شروع کیے جائیں گے؛
فکری و ثقافتی پروگرام، سیمینار اور کانفرنسیں منعقد کی جائیں گی؛
نوجوانوں کے لیے تربیتی ورکشاپس اور آن لائن تعلیمی مواد تیار کیا جائے گا؛
امیر جماعت اسلامی ہند جناب سعادتالله حسینی نے کہا کہ جماعت اسلامی اس تعلیمی اور فکری تعاون کو نہ صرف خوش آمدید کہتی ہے بلکہ اسے وقت کی ایک اہم ضرورت سمجھتی ہے۔
ملاقات انتہائی دوستانہ فضا میں اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد جماعت اسلامی ہند کی جانب سے وفد کے اعزاز میں ضیافتِ عشائیہ کا اہتمام کیا گیا۔
یہ ملاقات دونوں اداروں کے درمیان فکری ہم آہنگی، دینی تعاون اور مستقبل کے مشترکہ پروگراموں کے ایک نئے باب کا آغاز سمجھی جا رہی ہے۔
