قوم و ملت کو تعلیم اور تہذیب سے آراستہ کرنے والے اداروں کے خلاف گمراہ کن مہمات کی مذمت۔ ڈاکٹر عبد القدیر کی پریس کانفرنس

شاہین گروپ کے خلاف سوشیل میڈیا کے ذریعہ گمراہ کن مہم چلانے والے کے خلاف ہتک عزت، 10 کروڑ ہرجانے کی نوٹس
قوم و ملت کو تعلیم اور تہذیب سے آراستہ کرنے والے اداروں کے خلاف گمراہ کن مہمات کی مذمت۔ ڈاکٹر عبد القدیر کی پریس کانفرنس

حیدرآباد۔14/اگست۔ چیرمین شاہین گروپ آف ایجوکیشنل انسٹی ٹیوشنس ڈاکٹر محمد عبد القدیر نے قوم و ملت کو تعلیم اورشائستہ تہذیب سے آراستہ کرنے والے مسلم مائیناریٹی تعلیمی اداروں کے خلاف من گھڑت الزامات اور بیہودہ قسم کے ویڈیو کلپس کے ذریعہ انتظامیہ کو بلیک میل کرنے اور عوام کو گمراہ کرنے والے عناصر کی مذمت کرتے ہوئے انہیں خبر دار کیا ہے کہ ان کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔ ڈاکٹر عبد القدیر 14 اگست کو میڈیا پلس آڈیٹوریم میں ایک پریس کانفرنس سے مخاطب تھے۔ انہوں نے بتایا کہ شاہین گروپ نے 36 برس پہلے ایک کمرے کے کلاس روم سے اپنے تعلیمی مہم کا آغاز کیا تھا اور اب ہندوستان کی تمام ریاستوں میں اس کی برانچس ہیں اور 45 ہزار سے زائد طلبہ و طالبات زیر تعلیم ہیں۔ گورنمنٹ میڈیکل کالجس میں میرٹ کی اساس پر کنوینر کوٹے میں ہر سال ریکارڈ تعداد میں شاہین گروپ کے طلبہ و طالبات داخلہ لیتے ہیں اور پورے ملک کے میڈیکل کالج میں ایک فیصد فری نشستیں شاہین کے طلبہ حاصل کرتے ہیں۔ شاہین گروپ نے نہ صرف تعلیمی میدان میں خدمات انجام دی ہیں بلکہ وہ سماجی اصلاح کے لئے گزشتہ تین دہائیوں سے زائد عرصوں سے جدوجہد کر رہا ہے۔ اس کے نتیجے میں ضلع بیدر ٹیوشن فری بن گیا۔ نوجوانوں کو نشہ، تمباکو اور گٹکے کی لعنت سے نجات دلانے شادی، بیاہ تقاریب میں اصراف، فیشن کے نام پر اچھے خاصے لباس کو پھاڑ کر پہننے اور جانوروں جیسے ہیئر اسٹائل کی وباء سے محفوظ رکھنے کی مہم آج پورے ہندوستان میں چلائی جارہی ہے۔ شاہین کیمپس بیدر میں 6 ہزار طلبہ مقیم ہیں۔ جن میں سینکڑوں حفاظ بھی ہیں۔ یہ کیمپس فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا سنگم تسلیم کیا جاچکا ہے۔ شاہین کی اس سماج،سدھار اور قوم و ملت کو تعلیم یافتہ، مہذب اور قوم کا اثاثہ بنانے کی کوششیں بعض مفاد پرست عناصر کی آنکھوں میں کھٹک رہی ہے۔ چنانچہ وہ اپنے آلہ کاروں کے ذریعہ شاہین سے متعلق گمراہ کن باتیں پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ایسے ہی ایک بنگلور کے ایک عالم پاشا نامی شخص نے شاہین گروپ کے متعلق گمراہ کن ویڈیو کلپس سوشیل میڈیا کے ذریعہ جاری کئے۔ انہوں نے چیرمین شاہین گروپ پر اسکالر شپ میں خردوبرد کے علاوہ اور کئی الزامات عائد کرکے نہ صرف کردار کشی بلکہ شاہین جیسے ادارے کے صاف و شفاف امیج کو بگاڑنے کی کوشش کی جس پر شاہین گروپ کی جانب سے عالم پاشا کے خلاف ہتک عزت کی قانونی نوٹس جاری کی اور اندرون تین دن اظہار معذرت کے ساتھ گمراہ کن مواد کو سوشیل میڈیا سے حذف کرنے کی مہلت دی۔ ورنہ انہیں 10کروڑ روپئے ہرجانہ ادا کرنا ہوگا۔ڈاکٹر عبد القدیر نے بتایا کہ عام طور پر وہ مخالفین کو نظر انداز کردیتے ہیں تاہم سوشیل میڈیا کے ذریعہ غلط پیغام سے ملک و بیرون ملک میں شاہین گروپ سے متعلق غلط تاثر پیدا ہوسکتا ہے اسی وجہ سے انہوں نے ہتک عزت کا دعوی کیا ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر نے بتایا کہ ان کے خلاف ایک اور ویڈیو وائرل ہوا ہے جس میں ایک طالب علم اور اس کے سرپرستوں کی جانب سے ہاسٹل کی خوراک سے متعلق شکایت کرتے ہوئے دکھایا گیا۔ ڈاکٹر عبد القدیر نے کہا کہ ہاسٹل کے 6 ہزار بچوں کے علاوہ تمام اسٹاف اور خود وہ بھی وہی غذا ء لیتے ہیں۔ چند طلبہ کو شکایت ہوسکتی ہے مگر اس کا طریقہ مناسب ہونا چاہئے۔ آپس میں بات چیت کی بھی ویڈیو ریکارڈنگ کا مطلب پہلے سے منصوبے کے تحت ایک ادارے کی ساکھ کو متاثر کرنا تھا۔ ڈاکٹر عبد القدیر نے بتایا کہ ان پر یہ بھی الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ صدقات کے غلوں کے ذریعہ پیسہ جمع کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بیدر میں 137 مساجد ہیں جنہیں 12زمروں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ جہاں مسجد اسٹڈی سرکل، مسجد ہیلتھ کیئر اور نماز پڑھیں جیسے تحریکات چلائی جارہی ہیں اور ہر گھر میں صدقات کے ادائیگی کے لئے غلے رکھے گئے ہیں۔ صدقے کی اس رقم سے جہاں معاشرے کے مستحقین کی مدد ہوتی ہے وہیں صدقہ دینے والے آفات اور بلاؤں اور حادثات سے محفوظ رہتے ہیں اور یہ اللہ کے طرف سے دی گئی گارنٹی ہے۔ یہ کام بیدر بیٹر منٹ ڈاٹ کام کے تحت کیا جارہا ہے۔ جس کا عزم ہے کہ بیدر کو گداگروں، نفرت پھیلانے والوں اور غربت سے پاک کیا جائے۔ ڈاکٹر عبد القدیر نے بتایا کہ حکومت کرناٹک کی جانب سے 100 دینی مدارس میں عصری تعلیم کا اہتمام کیا گیا ہے۔ اسکول ڈراپ آؤٹ طلبہ کو دوبارہ تعلیم حاصل کرنے کا یہ ایک بہترین موقع ہے۔ شاہین کو یہ اعزاز ہے کہ اس کی تجویز پر یہ پروجیکٹ شروع کیا گیا ہے۔ ان کی یہ کوشش ہے کہ پورے ملک میں اسے عام کیا جائے۔
ڈاکٹر عبد القدیر نے سوشیل میڈیا کے ذریعہ کام کرنے والوں کو مشورہ دیا کہ وہ مثبت اور تعمیری رویہ اختیار کرے تاکہ ان کا کام عبادت بن جائے۔ منفی اور گمراہ کن اقدام سے ان کے مستقبل تاریک ہو سکتے ہیں۔ پریس کانفرنس میں جناب عبد الصمد ڈائریکٹر شاہین گروپ حیدرآباد اور جناب آصف بھی موجود تھے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *