تلنگانہ حکومت کی مسلمانوں کے ساتھ نہ انصافی پر آل انڈیا مسلم لیڈرز کانفرنس احتجاجی اجلاس
حیدرآباد۔25 جون (سفیر نیوز) آل انڈیا مسلم لیڈرز کانفرنس کی جانب سے چہار شنبہ کو سری رمولو پوٹی تیلگو یونیورسٹی باغ عامہ نامپالی میں تمام مسلم سیاسی پارٹی سی تعلق رکھنے والے سیاسی و سماجی لیڈرز کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا ۔اس اجلاس کی صدارت مولانا خیر الدین صوفی صدر آل انڈیا مسلم لیڈرز کانفرنس نگرانی بی آر ایس پارٹی کے سینئر لیڈر و سابق چیئرمین سٹ ون میر عنایت علی باقری نے کی اس موقع پر میر عنایت علی باقری نے اپنی قرارداد حکومت تلنگانہ کو دی جس میں انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتیں انتخابات سے قبل جو وعدے کرتے ہیں اس پر عمل آوری نہیں ہوتی ۔ بڑے بڑے وعدے کئے جاتے ہیں اور اعلانات بھی کئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کو راغب کرنے اور ان کا ووٹ حاصل کرنے کے لئے بلند بانگ دعوے کئے جاتے ہیں مگر اقتدار حاصل کرنے کے بعد ان وعدوں کو فراموش کردیا جاتا ہے ۔ لہٰذا آج اس موقع پر مسلم لیڈرس کانفرنس تمام ریاست کہ مسلمانوں کی جانب سے حکومت کو ایک قرار داد پیش کرتے ہوئے تمام سیاسی جماعتوں اور مرکزی و تمام سیاسی حکومتوں سے مانگ کرتی ہے جو وعدے مسلمانوں سے انتخابات سے قبل کئے گئے ہیں پر فوری عمل کرے اورمسلمانوں کو ان کے دستوری اور آئینی حقوق فراہم کرے۔ اس موقع پر مولانا خیر الدین صوفی نے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سماجی سطح پر بھی مسلمانوں کو ملک کی اکثیرت سے دور کرنے کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ مسلمانوں کے خلاف منفی پروپگنڈوں کا استعمال کیا جارہا ہے ۔ مسلمانوں کو سماجی دھاری سے باہر قرار دینے کی کوشش کی جارہی ہیں۔ مرکزی او ریاستی حکومتوں کی ناک کے نیچے یہ سارے کام انجام دئے جارہے ہیں۔ فرقہ پرست طاقتیں ملک کی فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے سنگیں خطرہ بنتے جارہے ہیں۔ مرکزی اور ریاستی حکومتیں اس خصوص میں سنجیدگی اختیار کریں۔ کل ہند مسلم لیڈرس کانفرنس کے ذریعے پیش کی جانے والی اس قررا داد میں مرکزی اور ریاستی حکومتوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ وہ فرقہ پرست طاقتوں کے خلاف کاررائیوں کو یقینی بنائیں اور مسلمانوں کے سماجی حالات میں سدھار لانے کے لئے موثر اقدامات اٹھائیں۔ آخر میں انہوں نے حکومت کو انتباہ دیا کے اگر اندرون 15 دن حکومت تلنگانہ مسلمانوں کے تعلق سے جو قرارداد دی جائیگی اس پر جلد از جلد عمل درآمد ہو ایسا نہیں ہوا تو یہ احتجاج شہر کے سڑکوں پر نکل آئے گے اس کے بعد جو ہوگا اس کے ذمہ دار خود تلنگانہ حکومت ہوگی۔اس موقع پر رحیم اللہ نیازی نے اپنے بیان میں کہا کہ آج ریاست کے مسلمانوں کے حالات پر کہا کہ
معاشی سطح پر مسلمان ملک بھر میں روز بہ روز کمزور ہورہا ہے ۔ مختلف وجوہات اور فرقہ وارانہ حالات کے ذریعہ مسلمانوں کی معیشت کو مسلسل نشانہ بنانے کا کام کیا جارہا ہے۔ہجومی تشدد کے واقعات ہوں یا پھر سرکاری سطح پر مکانات اور دوکانوں کے خلاف انہدامی کارروائیاں ہوں۔ مسلمانوں کی معیشت تباہ ہورہی ہے۔ ان حالات میں مرکزی اور ریاستی حکومت سے کل ہند مسلم لیڈرس کانفرنس اس قرار داد کے ذریعہ مانگ کرتی ہے کہ مسلمانوں کے معاشی حالات میں سدھار کے لئے جو وعدے انتخابات سے قبل سیاسی جماعتیں کرتے ہیں اس پر عمل آوری کریں۔ بجٹ کی اجرائی سے لے کر وہ تمام آئینی حقوق جس سے مسلمانوں کی معیشت کو مستحکم کیا جاسکتا ہے حکومتیں مسلمانوں کو فراہم کریں۔ گرین چینل کے ذریعہ اعلان کردہ بجٹ کے رقومات کے استعمال کو یقینی بنائیں۔ اس موقع پر کلیم بابا عام آدمی پارٹی کے لیڈر نے اپنے بیان میں کہا کہ
ہندوستان میں امت مسلمہ کو کلمہ کی بنیاد پر اپنی سیاسی’ سماجی’معاشی ترقی کے لئے متفقہ طور پر جدوجہد کرنے کی ضرورت ہے۔ خصوصا ان تمام سیاسی جماعتوں سے وابستہ قائدین اپنی پہلی ترجیح ملت کی فلاح و بہبود کے لئے اور سیاسی استحکام کے مقصد سے کارپوریٹر’ ایم ایل اے ‘ ایم ایل سی ‘ لوک سبھا اور راجیہ سبھا اور دیگر نامزد عہدے آبادی کے تناسب سے زیادہ سے زیادہ حاصل کرنے کے لئے اس کانفرنس کا انعقاد عمل میں لایا گیا ہے ۔ اس کانفرنس کے ذریعہ انہیں معاشی’ تشہیری’ لابنگ کے ذریعہ مسلم لیڈران کی مدد کو یقینی بنانے کا مقصد بنایا گیا ہے ۔ اس کانفرنس میں مذکورہ قررادد کے ذریعہ یہ عہد لیا جارہا ہے کہ کسی بھی سیاسی جماعت سے وابستہ جیتنے کے اہل امیدوار کی ہر محاذ پر ممکن مدد کی جائے گی۔اس موقع پر سید جعفر حسین ایڈیٹر روز نامہ صدائے حسینی نے کہا کہ آج جس طرح آل انڈیا مسلم لیڈرز کانفرنس کے بینر تلے تمام مسلم لیڈرز ایک جگہ ہوکر مسلمانوں کے حقوق کے لئے حکومت سے نبر آزما ہے یہ ایک خوشی کی بات ہے کہ ہم میں اتحاد ہوا ہے اسی اتحاد کو باقی رکھتے ہوئے تلنگانہ حکومت سے مسلمانوں کے حقوق کی نمائندگی کریں انہوں نے آل انڈیا مسلم لیڈرز کانفرنس کے ذمہداروں کو مبارک باد دی اس اجلاس میں
حکومت کی مسلمانوں کے ساتھ نہ انصافی پر آل انڈیا مسلم لیڈرز کانفرنس احتجاجی اجلاس
