یہ تبصرہ جئے رام رمیش نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کیا ہے۔ ساتھ ہی انھوں نے سوال کیا ہے کہ ’’کیا یہ پھر وہی یو-ٹرن ہے جس کے لیے وزیر اعظم مودی بدنام ہو چکے ہیں؟ یا پھر آگے اس کی تفصیل سامنے آئے گی؟‘‘ اس معاملے میں پارٹی کا موقف ظاہر کرتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ ’’انڈین نیشنل کانگریس کا واضح موقف ہے کہ 16ویں مردم شماری میں تلنگانہ ماڈل اختیار کیا جائے۔ یعنی صرف ذاتوں کا ہی شمار نہیں ہو، بلکہ ذات کے ساتھ ساتھ سماجی و معاشی حالت سے جڑی وسیع جانکاری بھی جمع کی جانی چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی وہ سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ بھی لکھتے ہیں کہ ’’تلنگانہ کے ذات پر مبنی سروسے میں 56 سوال پوچھےگ ئے تھے۔ اب سوال یہ ہے کہ 56 انچ کے سینہ کا دعویٰ کرنے والے غیر حیاتیاتی شخص میں کیا اتنی سمجھ اور ہمت ہے کہ وہ 16ویں مردم شماری میں 56 سوال پوچھنے کی بھی ہمت دکھا سکیں؟‘‘
’کیا یہ وہی یو-ٹرن ہے جس کے لیے پی ایم مودی بدنام ہو چکے ہیں؟‘ مردم شماری کے نوٹیفکیشن پر کانگریس نے اٹھایا سوال
