جسٹس گوئی آکسفورڈ یونین میں ایک سوال کا جواب دے رہے تھے۔ انہوں نے کہا کہ بعض اوقات ایسا دیکھنے میں آتا ہے کہ عدلیہ اپنی حدود پار کرنے کی کوشش کرتی ہے اور ان دائرہ کاروں میں داخل ہو جاتی ہے جہاں اسے عام طور پر نہیں جانا چاہیے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ اس طرح کا رجحان جمہوری توازن کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ عدلیہ کو اپنے دائرے میں کام کرنا چاہیے لیکن جب مقننہ یا انتظامیہ شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ میں ناکام ہو جائیں، تو عدلیہ کو مداخلت کرنی پڑتی ہے۔ تاہم، اس مداخلت کو محدود اور غیر معمولی حالات تک محدود رکھنا چاہیے۔
