پون کھیڑا نے الزام لگایا کہ امریکی صدر ٹرمپ نے 21 دنوں میں 11 بار ہندوستان اور پاکستان کے درمیان جنگ بندی میں ثالثی کا دعویٰ کیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مودی حکومت نے امریکہ کو ثالث بننے دیا۔ 23 مئی 2025 کو امریکی وزیر تجارت نے یہ بھی اعتراف کیا کہ دونوں ملکوں نے امریکہ کی مداخلت کو تسلیم کیا، جو کہ ہندوستانی خودمختاری پر سوالیہ نشان ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسٹیل پر ٹیرف اور ٹیکس کے باوجود ہندوستان ’میک ان انڈیا‘ جیسے اہم تجارتی منصوبوں سے باہر رکھا گیا، جبکہ چین کو فوقیت دی گئی۔ برکس جیسے پلیٹ فارم پر بھی ہندوستان کو تنہا چھوڑ دیا گیا۔ نومبر 2024 میں ٹرمپ نے برکس پر صد فیصد ٹیرف لگانے کی دھمکی دی اور کہا کہ برکس فوت ہو چکا، جبکہ مودی حکومت خاموش رہی۔
