کانگریس رہنما کا کہنا ہے کہ اگرچہ 2014 کے بعد بھی ہندوستانی وزرائے اعظم کو ان اجلاسوں میں مدعو کیا جاتا رہا لیکن اس بار ایسا نہیں کیا گیا، جو ایک تشویشناک سفارتی رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چاہے حکومت اس پر کچھ بھی مؤقف اختیار کرے، حقیقت یہی ہے کہ عالمی سطح پر ہندوستان کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔
جے رام رمیش نے اسے مودی حکومت کی خارجہ پالیسی کی ایک اور ناکامی قرار دیا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے نہ صرف امریکہ کو ہندوستان اور پاکستان کے درمیان ثالثی کا موقع دے کر ہماری دہائیوں پرانی غیر جانبدارانہ پالیسی کو الٹ دیا بلکہ امریکی حکام کو یہ آزادی بھی دی کہ وہ کسی ‘نیوٹرل سائٹ’ پر مذاکرات جاری رکھنے کی اپیل کریں۔
