وقف ترمیمی قانون مذہبی خودمختاری پر حملہ اور آئینی حقوق کی پامالی ہے: ارشد مدنی

انہوں نے اس بات پر بھی سخت اعتراض کیا کہ کلکٹر کو انصاف کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، حالانکہ وہ خود ہی ایک فریق ہو سکتا ہے۔ اس سے عدالتی غیر جانبداری کا بنیادی اصول مجروح ہوتا ہے۔

عدالت میں موجود سالیسٹر جنرل تشار مہتا نے عدالت کے استفسارات کا اطمینان بخش جواب نہیں دیا، بالخصوص وقف بائی یوزر کی حیثیت کے بارے میں ان کی وضاحت غیر واضح رہی، جس پر چیف جسٹس نے حیرت کا اظہار کیا۔

کپِل سِبل نے کہا کہ ’’ماضی میں وقف کے لیے کوئی رجسٹریشن لازمی نہیں تھا۔ کئی مساجد اور اوقاف 13ویں، 14ویں یا 15ویں صدی سے موجود ہیں۔ اب حکومت ان کے کاغذات مانگ رہی ہے، جو سراسر غیر عملی ہے۔ اگر کوئی دستاویز پیش نہ کر سکا تو اس کی جائیداد چھن جائے گی، یا قابض ہی اس کا مالک بن جائے گا؟ یہ کیسا قانون ہے؟‘‘

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *