اس موقع پر جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے کہا کہ وقف ایک مذہبی امانت ہے اور اس پر کسی قسم کی سرکاری اجارہ داری یا اس کی حیثیت بدلنے کی کوئی گنجائش نہیں ہونی چاہیے۔ ہم سپریم کورٹ سے انصاف کی امید رکھتے ہیں تاکہ نہ صرف مسلمانوں کے بلکہ تمام اقلیتوں کے مذہبی حقوق کا تحفظ ممکن ہو۔
مولانا مدنی نے مزید کہا کہ جمعیۃ کی عاملہ نے اس قانون کا باریک بینی سے جائزہ لیا ہے اور وقف بائی یوزر کی شق کے خاتمے کو ایک بنیادی مسئلہ قرار دیا ہے۔ خوشی کی بات یہ ہے کہ آج عدالت نے بھی اس تشویش کو سنجیدگی سے لیا اور اس پر غور کرنے کا عندیہ دیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم قانونی جدوجہد پر یقین رکھتے ہیں اور آئینی راستے سے اپنے حقوق کی بازیابی کے لیے پرعزم ہیں۔ یہ معاملہ محض مسلمانوں کا نہیں بلکہ ہندوستان کی تکثیری شناخت، مذہبی آزادی اور اقلیتی حقوق کے تحفظ سے جڑا ہوا ہے۔ واضح رہے کہ عدالت نے اعلان کیا کہ اس کیس کی کارروائی 17 اپریل 2025 کو دوپہر 2 بجے دوبارہ شروع ہوگی۔
