ایس پی رہنما ضیاء الرحمٰن برق نے میڈیا سے گفتگو میں کہا، ’’آج مجھے عدالتی کمیشن کے سامنے پیشی کے لیے بلایا گیا اور میں نے جا کر مکمل سچائی بیان کی۔ میں قانون پر یقین رکھتا ہوں اور ہر سوال کا جواب دوں گا۔‘‘ انہوں نے پولیس کی تفتیش پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا، ’’دفعہ 161 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہوتی کیونکہ ان پر دستخط نہیں ہوتے۔‘‘
انہوں نے اپنے خلاف لگے الزامات کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ سچ عدالت میں سامنے آ جائے گا۔ ان کا کہنا تھا، ’’اگر صرف پولیس کی بات سے سچ ثابت ہو جائے، تو پھر عدالتوں کی کیا ضرورت ہے؟ پولیس رپورٹ ضرور درج کر سکتی ہے لیکن جو کچھ میرے خلاف لکھا گیا ہے، وہ غلط ہے۔‘‘
