پیگاسس کے نشانے پر 100 ہندوستانی شہری، متاثرہ ممالک میں ہندوستان دوسرے نمبر پر

ہندوستان میں 2021 میں سپریم کورٹ نے پیگاسس معاملے کی تحقیقات کے لیے تکنیکی ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔ اگست 2022 میں کمیٹی نے رپورٹ میں کہا تھا کہ زیر تفتیش فونز میں پیگاسس کے استعمال کا کوئی حتمی ثبوت نہیں ملا، تاہم مرکزی حکومت نے کمیٹی سے تعاون نہیں کیا۔ یہ رپورٹ اب تک سیل بند ہے۔

کمیٹی کے نگراں جسٹس (ر) آر وی رویندرن نے تب کہا تھا کہ چونکہ رپورٹ سپریم کورٹ میں جمع ہو چکی ہے، اس پر تبصرہ کرنا مناسب نہیں ہوگا۔

این ایس او گروپ کی جانب سے تاحال کوئی رد عمل سامنے نہیں آیا ہے۔ وہاٹس ایپ کی جانب سے پیش کی گئی دستاویزات سے پیگاسس کی مختلف اقسام اور اس کے استعمال کی وسعت کا بھی پتہ چلتا ہے۔

یہ انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دنیا بھر میں ڈیجیٹل پرائیویسی اور شہری آزادیوں کے تحفظ سے متعلق خدشات بڑھتے جا رہے ہیں، اور پیگاسس جیسے سافٹ ویئر کے استعمال پر سخت سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *