وقف ترمیمی قانون پر چراغ پاسوان کا تبصرہ، ’کتنے مسلمان ہیں جو پچھلے قانون کے خلاف عدالت جا بھی نہیں سکے‘

واضح رہے کہ مرکزی حکومت نے 8 اپریل کو وَقف ترمیمی قانون کو نافذ کرنے کے لیے نوٹیفکیشن جاری کیا تھا۔ اس قانون کا مقصد 1995 کے وَقف قانون میں ترمیم کر کے وَقف جائیدادوں کے انتظام اور کنٹرول سے جڑے مسائل کا حل نکالنا ہے۔

وہیں، اس قانون کی مخالفت کرنے والوں کا کہنا ہے کہ وَقف ایک مذہبی ادارہ ہے، اس کے انتظام میں حکومت کی مداخلت آئینی اصولوں کے خلاف ہے۔ درخواست گزاروں نے کہا ہے کہ نیا قانون آئین کے آرٹیکل 14، 15، 25، 26 اور 29 کے تحت حاصل بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے، اور آرٹیکل 300A یعنی حق ملکیت کے بھی منافی ہے۔

سپریم کورٹ میں 16 اپریل کو ان تمام درخواستوں پر باضابطہ سماعت ہوگی، جس کے بعد عدالت کے رخ کا اندازہ لگایا جا سکے گا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *