مہرولی درگاہ اور چلہ گاہ میں کسی بھی نئی تعمیر پر سپریم کورٹ نے لگائی عارضی پابندی

سپریم کورٹ نے 28 فروری کو دہلی کے مہرولی واقع درگاہ اور چلہ گاہ والی جگہ پر کسی بھی نئی تعمیر پر عارضی پابندی عائد کر دی۔ عدالتی حکم کے بعد اب تیرہویں صدی کی عاشق اللہ درگاہ اور صوفی سَنت بابا فرید کی چلہ گاہ کے ڈھانچوں کی مرمت وغیرہ کا کام رک گیا ہے۔ چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ کی بنچ نے ایک عرضی پر سماعت کے دوران کہا کہ اے ایس آئی نے عبوری اسٹیٹس رپورٹ پیش کی ہے۔ اس وقت یہ پتہ لگانا اور تصدیق کرنا ضروری ہے کہ اصل ڈھانچہ کیسا تھا۔ اس معاملے میں آئندہ سماعت 28 اپریل کو ہوگی۔

چیف جسٹس آف انڈیا سنجیو کھنہ اور جسٹس سنجے کمار کی بنچ نے ضمیر احمد جملانا نامی شخص کی عرضی پر سماعت کرتے ہوئے مذکورہ بالا حکم صادر کیا۔ اس عرضی میں آثار قدیمہ پارک کے اندر واقع مذہبی ڈھانچوں کو منہدم ہونے سے بچانے کی گزارش کی گئی ہے۔ سینئر ایڈووکیٹ ندھیش گپتا نے اے ایس آئی کی اسٹیٹس رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں 700 سال قبل کا تاریخی اسمارک ہے۔

بہرحال، آج سماعت کے دوران چیف جسٹس نے کہا کہ ’’پیسہ کمانے کے لیے لوگ تجاوزات کرتے رہتے ہیں اور دکانیں لگاتے رہتے ہیں۔‘‘ انھوں نے اے ایس آئی کو ہدایت دی کہ وہ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے منصوبہ تیار کرے کہ آگے کوئی تجاوزات نہ ہو۔ چیف جسٹس سنجیو کھنہ نے یہ بھی کہا کہ اے ایس آئی کو آگے کی اسٹیٹس رپورٹ داخل کرنی ہے۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *