سری نگر: محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق سیاحتی مقامات سمیت وادی کشمیر کے پہاڑی علاقوں میں درمیانی سے بھاری جبکہ میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری ہوئی جس سے بیشتر مقامات پر معمول زندگی متاثر ہو کر رہ گئے۔
اطلاعات کے مطابق وادی کے شہرہ آفاق سیاحتی مقام گلمرگ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 3 فٹ برف ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ وادی کے دوسرے مشہور سیاحتی مقام پہلگام میں 10 انچ برف جمع ہوئی ہے۔
اس دوران وادی کے دیگر سیاحتی مقامات جیسے دودھ تھری میں 3 فٹ، سونہ مرگ میں 3.5 فٹ، یوسمرگ میں 2 فٹ سے زیادہ، ڈکسم میں 1 فٹ، ویری ناگ میں 10 انچ اور کوکرناگ میں بھی 10 انچ برف جمع ہوئی ہے۔
کشمیر ویتھر کے مطابق گرمائی دار الحکومت سری نگر میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران 30.5 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ اس دوران سیاحتی مقامات گلمرگ اور پہلگام میں بالترتیب 58.2 ملی میٹر اور 46.6 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
سرحدی ضلع کپوارہ اور گیٹ اے آف کشمیر کے نام سے مشہور قصبہ قاضی گنڈ میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بالترتیب33.5 ملی میٹر اور 53.2 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
سری نگر ہوائی اڈے پر گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران52.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
وسطی کشمیر کے بڈگام اور گاندربل اضلاع میں اس دوران بالترتیب12.0 ملی میٹر سے زیاد اور 24.5 ملی میٹر سے زیادہ بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور بانڈی پورہ اضلاع میں بالترتیب 19.0 ملی میٹر اور27.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے جبکہ سوپور میں اس دوران 35.4 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
جنوبی کشمیر کے اننت ناگ، پلوامہ، شوپیاں اور کولگام اضلاع میں گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران بالترتیب 24.0 ملی میٹر، 16.0 ملی میٹر،21.0 ملی میٹر اور28.0 ملی میٹر بارش ریکارڈ ہوئی ہے۔
وادی میں برف وباراں کی وجہ سے جہاں جمعہ کو سری نگر ہوائی اڈے پر فلائٹ آپریشن تاخیر کا شکار ہوگیا وہیں وادی کو ملک کے باقی حصوں کے ساتھ جوڑنے والی سری نگر – جموں قومی شاہراہ پر ٹریفک کی نقل و حمل معطل ہو کر رہ گئی۔
اطلاعات کے مطابق جنوبی کشمیر کے بالائی علاقوں میں صبح کے وقت بعض رابطہ سڑکوں پر ٹریفک کی نقل و حمل شدید مشکلات سے دوچار ہوئیں جبکہ بعض علاقوں میں بجلی بھی متاثر ہو کر رہ گئی۔
خراب موسمی صورتحال کے باعث وادی کے سکولوں کی سرمائی تعطیلات میں بھی قریب ایک ہفتے کی توسیع کر دی گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے مطابق وادی میں 28 فروری کو بھی موسم ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران کئی علاقوں میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری یا بارشوں کا امکان ہے جبکہ اس دوران صوبہ جموں میں بھی کہیں کہیں ہلکے درجے کے برف وباراں کا امکان ہے۔
انہوں نے کہا کہ شمالی اور وسطی کشمیر میں 28 فروری کے دوپہر سے موسم میں بتدیرج بہتری واقع ہوسکتی ہے جبکہ جنوبی کشمیر میں سہہ کے بعد اور چناب میں 28 فروری کی شام سے موسم بہتر ہونے کا امکان ہے۔
متعلقہ محکمے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ وادی میں یکم اور 2 مارچ کو بھی موسم عام طور پر ابر آلود رہ سکتا ہے اور اس دوران کہیں کہیں ہلکی برف باری یا بارشیں متوقع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایک اور مغربی ہوا کے نتیجے میں 3 مارچ کو ایک بار پھر وادی میں ہلکی سے درمیانی درجے کی برف باری کا امکان ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ بعد ازاں 4 سے 8 مارچ تک موسم عام طور پر خشک رہنے کا امکان ہے۔
محکمے کی طرف سے جاری ایڈوائزری میں کہا گیا ہے کہ اس دوران خاص طور پر سادھنا پاس، راز دان پاس، سونہ مرگ – زوجیلا – گمری ایکسز، مغل روڈ سنتھن روڈ اور دوسرہی پہاڑی سڑکوں پر ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل عارضی طور پر متاثر رہ سکتی ہے۔
ایڈوائزری میں سیاحوں اور ٹرانسپورٹروں سے ٹریفک ایڈوائزری پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے جبکہ کسانوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اس دوران اپنے کھیت کھلیانوں میں آبپاشی و دیگر کام کرنے سے احتراز کریں۔
انہوں نے کہا کہ کچھ مقامات پر مٹی کے تودے یا چٹانیں کھسکنے کے بھی خطرات ہیں۔
دریں اثنا وادی میں برف باری سے لوگوں خاص طور پر کسانوں میں خوشی کی لہر پھیل گئی ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق موجودہ موسمی صورتحال سے بارش کانہوں نے کہا کہ کشمیر میں رواں سیزن کے دوران یعنی یکم جنوری سے 27 فروری تک بارش کی 63 فیصد کمی جبکہ صوبہ جموں میں 67 فیصد بارش کی کمی ریکارڈ ہوئی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ توسیعی رینج پیش گوئی(ای آر ایف) کے مطابق 27 فروری سے 6 مارچ تک معمول سے زیادہ بارشیں متوقع ہیں جبکہ 6 مارچ سے 13 مارچ تک معمول کے قریب بارشیں ہونے کا امکان ہے۔ ی80 فیصد کمی صرف 65 فیصد رہ گئی ہے۔