مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، عرب محقق اور سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر ناصر المالکی نے کہا ہے کہ ایران کمزور ہونے کے بارے میں نتن یاہو کے دعوے کے برعکس ایران بہت طاقتور ہے۔
انہوں نے صدر ٹرمپ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ وہی امریکی صدر ہیں جنہوں نے اپنے اقتدار کے آغاز میں ایران کو دھمکی دی تھی جس کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر نے کہا تھا کہ آپ کے ساتھ مذاکرات کرنا شرافت کے خلاف ہے۔
المالکی نے کہا کہ ایران نہ کسی کا تابع ہے اور نہ ہی کسی کا زیر اثر۔ 45 سال سے ایران اس آزادی کی قیمت پابندیوں کی صورت میں ادا کررہا ہے۔ بدقسمتی سے امریکہ کچھ ممالک کو اپنا غلام سمجھتا ہے اور اگر وہ قدم آگے بڑھائیں تو انہیں سزا دیتا ہے۔ مگر ایران کے خلاف تمام سازشوں، نظام کو بدلنے کے منصوبوں، فسادات اور قتل و غارت کے باوجود امریکہ ناکام ہوا ہے۔ واشنگٹن ایران کو غلام کی طرح دیکھ کر اس پر جبر نہیں کرسکتا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کمزور ملک ہوتا تو بہت پہلے اس کا نظام ختم ہو چکا ہوتا۔ امریکہ نے ایران میں نظام کی تبدیلی کے لئے اربوں ڈالر خرچ کیے مگر اس کا کوئی نتیجہ نہیں نکلا۔ نتن یاہو، ٹرمپ اور بعض عرب ممالک ایران کی مزاحمت دیکھ کر حیران ہیں۔