کانگریس کا کہنا ہے کہ کھڑگے جی پر بی جے پی اس لیے حملہ آور نہیں ہے کہ انھوں نے ان کو آئینہ دکھایا، بلکہ دقت ان کے دلت ہونے سے ہے، ان کو برا لگ رہا ہے کہ دلت لیڈر ان کے گناہ کی قلعی کھول رہے ہیں۔


ملکارجن کھڑگے، تصویر@INCIndia
پریاگ راج میں ’کمبھ‘ کے دوران گنگا میں ڈبکی لگائے جانے سے متعلق کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے کے بیان پر بی جے پی حملہ آور نظر آ رہی ہے۔ اس کے لیڈران الزام عائد کر رہے ہیں کہ کھڑگے نے مہاکمبھ میں ہندوؤں کے عقیدہ کا مذاق بنایا ہے اور ان کے جذبات کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ لیکن اب کانگریس نے بھی جوابی حملہ کرتے ہوئے بی جے پی کو ہی کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ کانگریس کا کہنا ہے کہ بی جے پی ملکارجن کھڑگے پر اس لیے حملہ آور نہیں ہے کہ انھوں نے ان کو آئینہ دکھایا ہے، بلکہ دقت ان کے دلت ہونے سے ہے۔ بی جے پی والوں کو تکلیف اس بات سے ہوئی ہے کہ ان کے گناہوں کی قلعی ایک دلت لیڈر کھول رہے ہیں۔
دراصل آج مدھیہ پردیش کے مہو میں ’جئے باپو، جئے بھیم، جئے آئین‘ ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ملکارجن کھڑگے نے کہا تھا کہ ’’ارے بھائی گنگا میں ڈبکی لگانے سے غریبی دور ہوتی ہے کیا، کیا آپ کو پیٹ میں کھانا ملتا ہے؟ میں کسی کے جذبات کو ٹھیس نہیں پہنچانا چاہتا۔ اگر کسی کو تکلیف ہوئی تو میں معافی چاہتا ہوں۔ لیکن آپ بتائیے کہ جب بچہ بھوکا مر رہا ہے، بچہ اسکول میں نہیں جا رہا ہے، مزدوروں کو مزدوری نہیں مل رہی ہے… ان حالات میں یہ لوگ کمپٹیشن میں ڈبکیاں مار رہے ہیں۔‘‘ نمائش میں ڈبکیاں لگانے والے لیڈران پر حملہ کرتے ہوئے وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’کمپٹیشن میں پہلے ایک ڈبکی مارتا ہے، پھر دوسرا… اور جب تک ٹی وی پر اچھا نہیں آتا، تب تک ڈبکی مارتے رہتے ہیں۔‘‘
ملکارجن کھڑگے کے اسی بیان پر بی جے پی ترجمان سمبت پاترا اور کچھ دیگر لیڈران نے اپنی ناراضگی ظاہر کی ہے۔ کانگریس نے اعتراض کرنے والے لیڈران پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اگر کمبھ میں عقیدہ ہے، اگر سناتن مذہب میں عقیدہ ہے، تو پھر گناہ اور ثواب میں بھی یقین کرنا ہوگا۔ ملکارجن کھڑگے نے اپنے بیان میں ایسا کچھ غلط نہیں کہا ہے جس پر بی جے پی بے کار کا ہنگامہ مچا رہی ہے۔ کروڑوں نوجوانوں کو بے روزگار رکھنا، دلتوں و پسماندوں پر مظالم کرنا، لوگوں کو مہنگائی سے پریشان کرنا گناہ ہے۔‘‘ یہ تبصرہ کانگریس ترجمان سپریا شرینیت نے ایک ویڈیو میں کیا ہے جسے کانگریس نے اپنے آفیشیل ’ایکس‘ ہینڈل پر شیئر بھی کیا ہے۔
سپریا شرینیت نے تلخ انداز اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’کھڑگے جی پر بی جے پی حملہ آور اس لیے نہیں ہے کہ انھوں نے ان کو آئینہ دکھایا، دقت ان کے دلت ہونے سے ہے۔ ان کو برا یہ لگ رہا ہے کہ جن کا صدیوں استحصال کیا، اسی طبقہ کا دلت لیڈر ان کے گناہ کی قلعی کھول رہے ہیں۔‘‘ ساتھ ہی انھوں نے یہ سوال بھی داغ دیا ہے کہ ’’کتنی نفرت کریں گے آپ لوگ دلتوں سے؟‘‘
ویڈیو میں سپریا شرینیت میڈیا چینل والوں پر بھی حملہ کرتی نظر آ رہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’چرن چمبک جو اس کو سرخی بنا کر پروگرام کر رہے ہیں، انھوں نے تو ضمیر کب کا بیچ کھایا ہے۔ بھلا کمبھ پر کوئی کیوں اعتراض کرے گا؟ کمبھ ہمارے عقیدہ کی علامت ہے، کمبھ کوئی پہلی بار نہیں منعقد کیا جا رہا ہے۔ کمبھ اتنی ہی عظمت کے ساتھ ہمیشہ سے منایا گیا ہے، لیکن سناتن ثقافت میں گناہ و ثواب کی تشریح ایسے ہی کی گئی ہے۔‘‘ وہ مزید کہتی ہیں کہ ’’جب ملک میں غریبی اور بے روزگاری سے لوگ پریشان ہیں، اور اس ملک کے سب سے سینئر دلت لیڈر اہم ایشوز پر بات کرنے کی وکالت کرتے ہیں تو پوری کی پوری بی جے پی ان کے خلاف کھل کر جھوٹ بول رہی ہے، منفی تشہیر کر رہی ہے۔‘‘
کانگریس کے سینئر لیڈر پون کھیڑا نے بھی اس معاملے میں اپنا سخت رد عمل ظاہر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’آج کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے ’راج دھرم‘ یاد دلایا ہے۔ اس کے بعد سے ہی بی جے پی کے لیڈران بلبلانے لگے، اور صاف ہو گیا کہ ان کی داڑھی میں تنکا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’انھیں اعتراض اس بات سے ہے کہ ملک کے بڑے دلت لیڈر نے انھیں ’راج دھرم‘ کا سبق کیسے سکھا دیا۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔