
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ سویٹزرلینڈ مذاکرات مکمل ہونے کے بعد ایرانی وفد وطن واپس روانہ ہوگیا ہے۔
سوشل میڈیا پر ایک بیان میں انہوں نے بتایا کہ یہ مذاکرات اتوار کی صبح سوئٹزرلینڈ کے Lake Lucerne میں شروع ہوئے اور پیر کے ابتدائی ساعات تک جاری رہے۔ مذاکرات میں یادداشتِ مفاہمت کی شقوں 1، 5، 10 اور 11 پر خصوصی توجہ دی گئی۔
بقائی کے مطابق قطر اور پاکستان کی ثالثی میں تیار کردہ مشترکہ اعلامیے کے تحت یادداشتِ مفاہمت پر عمل درآمد کی نگرانی کے لیے عملی طریقہ کار وضع کیا گیا ہے، جبکہ جنگ کے خاتمے سے متعلق سمجھوتے پر مؤثر عمل درآمد کے لیے ماہرین اور تکنیکی سطح پر مذاکرات جاری رکھنے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حتمی معاہدے کے لیے مذاکرات کا آغاز یادداشتِ مفاہمت کی شق 13 کے تحت دیگر اہم شقوں پر عمل درآمد سے مشروط ہے۔ ان کے بقول لبنان میں جنگ اور اسرائیلی فوجی کارروائیوں کے خاتمے، ایران کی تیل و پیٹروکیمیکل برآمدات اور منجمد ایرانی اثاثوں کی بحالی سے متعلق طے پانے والے معاہدے باہمی تعہدات کے نفاذ میں معاون ثابت ہوں گے۔
ترجمان نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی بنیاد ’’عہد کے بدلے عہد‘‘ ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران فریقِ مقابل کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کی مسلسل نگرانی کرے گا اور ان کی تکمیل یقینی بنانے کے لیے اپنے تمام دستیاب ذرائع استعمال کرے گا۔
