قابل ذکر ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات کے دوران امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر تہران کو دھمکی دی ہے۔ انہوں نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں کہا کہ ایران کو لبنان میں اپنے ان گروہوں کو روکنا چاہیے جن کی وہ مالی مدد کرتا ہے۔ ان کے بقول یہ گروہ مسائل پیدا کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایران نے ایسا نہیں کیا تو ہم ایران پر دوبارہ بہت سخت حملہ کریں گے، جیسا ہم نے گزشتہ ہفتے کیا تھا، لیکن اس بار اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ۔ اس بیان پر ایران کی طرف سے سخت رد عمل ظاہر کیا گیا۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے ٹرمپ کو اپنی زبان سے محتاط رہنے کا مشورہ دیا۔ انھوں نے ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ’’کیا وہ نہیں سمجھتے کہ اگر ان کی دھمکیوں کا کوئی اثر ہوتا تو وہ آج اس مایوس کن صورتحال میں نہ ہوتے؟ ہم امریکی دھمکیوں کو کوئی اہمیت نہیں دیتے، انہیں اپنے بیانات سے زیادہ محتاط رہنا چاہیے۔ ہماری مسلح افواج ان کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں، وہ جو بھی کہیں گے، ہمیں کوئی فرق نہیں پڑے گا۔‘‘
امریکہ-ایران مذاکرے کا پہلا دور ختم، اعلیٰ سطحی کمیٹی بنانے پر اتفاق، ایرانی وزیر خارجہ عراقچی کا پہلا رد عمل آیا سامنے
