
مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی تجزیہ کار نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیلی وزیرِاعظم نتن یاہو اپنے سیاسی اختتامی دنوں میں داخل ہوچکے ہیں اور ان کی حکومت کا باقی ماندہ دور اسرائیل کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔
تفصیلات کے مطابق، صہیونی سیاسی مبصر اور کالم نگار اری مسگاو ہارٹز اخبار میں اپنے مضمون میں لکھا کہ نیتن یاہو اس وقت سیاسی، قانونی اور عوامی حمایت کے حوالے سے سنگین بحران کا شکار ہیں۔
تجزیہ نگار کے مطابق، ایران کے خلاف برسوں سے جاری نیتن یاہو کا سیاسی منصوبہ اب جغرافیائی و سیاسی ناکامی سے دوچار ہو چکا ہے، جس نے ان کی سیاسی حیثیت کو مزید کمزور کر دیا ہے۔
اوری میسگاو نے خبردار کیا کہ حالیہ جنگوں اور سکیورٹی بحرانوں کے بعد اسرائیل میں پائی جانے والی بے چینی اور غصے کے ماحول میں نیتن یاہو داخلی دباؤ سے نکلنے کے لیے خطے میں مزید کشیدگی پیدا کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مغربی کنارے، غزہ اور لبنان میں تصادم میں اضافے یا حتی کہ ایران کے ساتھ کشیدگی میں توسیع جیسے اقدامات اسرائیل کے داخلی سیاسی ماحول کو تبدیل کرنے کے لیے اختیار کیے جاسکتے ہیں۔
تجزیہ نگار نے اسرائیلی فیصلہ سازی کے نظام پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو نے اپنے گرد مکمل وفادار شخصیات کا ایک محدود حلقہ قائم کر رکھا ہے، جس کے باعث سرکاری اداروں میں تنقیدی آوازیں کم سے کم سنائی دے رہی ہیں۔
مضمون کے اختتام میں کہا گیا کہ اسرائیل کے سیاسی اور میڈیا حلقوں میں نیتن یاہو کے مستقبل کے حوالے سے اختلافات بڑھتے جا رہے ہیں، جبکہ حالیہ بحرانوں کے نتائج پر سیاسی قیادت کو جواب دہ بنانے اور قبل از وقت انتخابات کے مطالبات میں بھی مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔
