فلسطینی بچوں پر جنسی تشدد کے معاملہ میں اسرائیل کو بلیک لسث کرنے کی سفارش – اقوام متحدہ اور اسرائیلی نمایندوں کے درمیان لفظی جھڑپ

اقوام متحدہ کے اجلاس میں ہنگامہ، اسرائیلی مندوب نے یو این اہلکار کو ’’خاموش رہنے‘‘ کا کہہ دیا

 

نیویارک: اقوام متحدہ کے ایک اجلاس کے دوران غیر معمولی کشیدگی دیکھنے میں آئی، جہاں اسرائیل کے مستقل مندوب ڈینی ڈانون اور برطانوی سفارت کار و یو این عہدیدار ویانیسا فریزر کے درمیان شدید لفظی تکرار ہوئی۔ یہ واقعہ جنگی علاقوں میں بچوں کے خلاف جنسی تشدد کے موضوع پر منعقدہ مباحثے کے دوران پیش آیا۔

 

جنگی حالات میں جنسی تشدد کے خاتمے کے عالمی دن کے موقع پر ہونے والی نشست میں اسرائیلی مندوب ڈینی ڈینن نے اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ پرمیلا پیٹن سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان کی رپورٹ میں اسرائیل میں جنسی تشدد کے واقعات کا ذکر کرتے ہوئے ملک کو بلیک لسٹ میں شامل کرنے کی سفارش کی گئی، جسے اسرائیل نے مسترد کر دیا ہے۔ ڈینن نے الزام عائد کیا کہ یہ رپورٹس اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی ہدایات پر تیار کی گئی ہیں۔

 

اس دوران اجلاس کی صدارت کرنے والی ونیسا فریزر نے اسرائیلی مندوب کے بیانات کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ذاتی حملوں سے گریز کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل میں جنسی تشدد کے واقعات سے متعلق شواہد اکٹھے کیے گئے ہیں۔

 

اس پر ڈینی ڈینن شدید برہم ہو گئے اور بلند آواز میں بولتے ہوئے یو این عہدیدار سے ’’خاموش رہنے‘‘ کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے نمائندے ہیں، جبکہ آپ صرف ادارے کی ملازم ہیں، اس لیے خاموش رہیں۔‘‘

 

واضح رہے کہ فلسطینی بچوں کے خلاف مبینہ زیادتیوں اور تشدد سے متعلق اسرائیل کے خلاف اقوام متحدہ میں ایک رپورٹ بھی پیش کی گئی ہے، جس کے بعد یہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا۔

[]

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *